روس کے یوکیرین پر قبضے کے ساتھ شروع ہونے والے سلسلے میں ہم نے توانائی کو اسلحہ کے طور پر استعمال کیے جانے کا ایک بار پھر مشاہدہ کیا ہے۔ ہائبرڈ جنگ کے تصور میں، انرجی کارڈ کو روایتی طریقوں کے ساتھ آلہ کار بنایا گیا اور اسے ایک ایسے عنصر میں تبدیل کیا گیا جو مخالفین کے خلاف جنگی آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ جہاں روس اپنی تیل اور قدرتی گیس کی سپلائی کی طاقت کا استعمال کررہا ہے وہاں امریکہ اس کے برعکس روس کو توانائی برآمد کرنے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس تناظر میں یقیناً توانائی کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں۔
سیتا سیاسی پالیسی تحقیق دان جان اجون کا مندرجہ بالا موضوع پر تجزیہ ۔۔
روس کے قبضے کے ساتھ یوریشیا کے جیو پولیٹکل توازن میں بگاڑ آیا ہے تو متعدد دیگر عناصر سمیت عالمی توانائی کی منڈیوں میں بھی اہم سطح کا اتار چڑھاؤ آنے لگا ہے۔ برینٹ پیٹرول کے فی بیرل کے نرخ اچانک 130 ڈالر تک پہنچتے ہوئے نئے ریکارڈ قائم کر رہے ہیں۔
بنیادی طور پر عالمی توانائی منڈی کے معاملے میں خدشات کا موجب بننے والا اصل عنصر یقیناًٍ روس کا توانائی یعنی تیل اور قدرتی گیس کے اعتبار سے دنیا میں پہلے تین نمبر پر ہونا ہے۔
لہذا توانائی کی رسد روس کا ایک مضبوط پہلو ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نازک پہلو بھی ہے۔ روسی معیشت ہر برس اس سے کئی سو ارب ڈالر کا منافع حاصل کرتی ہے ۔ یعنی اس ملک کی معیشت کا دارو مدار قدرتی وسائل کی برآمدات پر ہے۔
اس سے آگاہی کےساتھ ، یوکرین پر قبضے کے آغاز کے ساتھ ہی، امریکہ روسی توانائی کی فراہمی کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اور خاص طور پر یورپی ممالک کو متبادل ذرائع کی طرف راغب کر کے، توانائی کی اس برآمد کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ بلاشبہ، یورپی یونین کے ارکان کا روس پر انحصار، خاص طور پر قدرتی گیس میں، ایک تزویراتی کمزوری کے طور پر ابھرنا، روس کے تئیں ان ممالک کی پالیسیوں کو متاثر کرتا ہے۔ یہ حقیقت کہ اٹلی اور فرانس جیسے اہم ممالک بالخصوص جرمنی روس پر 40-50 فیصد انحصار کرتے ہیں، اپنی پالیسی کے تعین میں ایک سنگین چیلنج کا سامنا ہے اور اب انہوں نے طویل مدتی درمیانی سطح پر روس پر انحصار ختم کرنے کے لیے اہم فیصلے کیے ہیں۔
بالآخر، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ یوکرین میں جنگ کیسے ختم ہوتی ہے، اس کے نتیجے میں روس کودرمیانی اور طویل مدت میں ایک سنگین سطح کا حکمت عملی نقصان پہنچے گا۔ یورپی یونین کے ممالک کا روس پر انحصار چند سالوں میں ختم ہو جائے گا اور یہ ممالک روس کے خلاف زیادہ مضبوط طریقے سے پالیسیاں وضع کر سکیں گے۔ روس کے علاوہ توانائی پیدا کرنے والے ممالک اس عمل سے نسبتاً مستفید ہوں گے۔ ایران اور وینزویلا جیسے ممالک کے بھی توانائی کی عالمی منڈی میں واپسی کے زیادہ امکانات ہیں۔