کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا ہے کہ کراچی کی اصل آبادی پر سمجھوتا اور کسی بھی قسم کی سودے بازی ہر گز قبول نہیں کی جائے گی ۔ عید الفطر کے بعد کراچی میں فوری مردم شماری کرانے ، ساڑھے 3 کروڑ عوام کے وفاقی و صوبائی حکومتوں سے جائز اور قانونی حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کے لیے بھر پور تحریک شروع کی جائے گی ۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ کراچی کی آبادی درست شمار کی جائے اور اصل آبادی کی بنیاد پر قومی و صوبائی اسمبلیوں میں نمائندگی اور وسائل دیے جائیں ۔ وفاقی و صوبائی ملازمتوں میں کوٹا سسٹم ختم کر کے کراچی کے نوجوانوں کو ملازمتیں دی جائیں ، بجلی و پانی کے مسائل کے حل کے لیے K-4منصوبہ 650ملین گیلن کی گنجائش کے مطابق مکمل کیا جائے، کے الیکٹرک کو قومی تحویل میں لے کر اس کا فرانزک آڈٹ کرایا جائے اور اہل کراچی سے ناجائز طور پر وصول کیے گئے کلا بیک کے 42ارب روپے واپس دلائے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی شرقی کے تحت صفورا چورنگی پر عوامی دعوت افطار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر نائب امرا ضلع شرقی انجینئر عزیز الدین ظفر ، نعیم اختر ، سیکرٹری ضلع ڈاکٹر فواد ،نعمان الیاس اور دیگر بھی موجود تھے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ نواز لیگ کے دور 2017ء میں ہونے والی مردم شماری میں کراچی کی آدھی آبادی کو غائب کر دیا گیا ۔ جماعت اسلامی نے اس وقت بھی اس کے خلاف احتجاج کیا تھا جس کے بعد 5فیصد بلاک دوبارہ کھولنے کی بات کی گئی لیکن وہ نہیں کھولے گئے ۔ پھر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم نے مل کر اس جعلی مردم شماری کی منظوری دی اور اہل کراچی کے ساتھ ظلم و زیادتی اور حق تلفی کی مزید راہ ہموار کی ۔ 2017ء کی مردم شماری کی بنیاد پر حلقہ بندیاں اور انتخابات اہل کراچی کے ساتھ کھلی ناانصافی ہوگی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف اگر کراچی سے ہمدردی رکھتے ہیں اور ماضی میں ہونے والی زیادتیوں اور حق تلفی کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں تو کراچی میں ہنگامی بنیاد پر مردم شماری کرائیں تاکہ کراچی کے ساڑھے3 کروڑ عوام کو قومی و صوبائی اسمبلیوں میں حقیقی نمائندگی اور اسی حساب سے وسائل مل سکیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ 17سال ہو گئے ، کراچی کے لیے ایک گیلن پانی کا بھی اضافہ نہیں کیا گیا ۔ نعمت اللہ خان نے اپنے دور حکومت میں K-3منصوبہ مکمل کیا اور K-4پروجیکٹ کا منصوبہ بنایا جو 650ملین گیلن کا منصوبہ تھا مگر بد قسمتی سے ان کے بعد آنے والی سٹی حکومت اور صوبائی حکومت نے مل کر اس منصوبے کو تعطل کا شکار کردیا اس وقت پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم حکومت میں تھیں ،بعد میں اس منصوبے کو کم کرکے 260ملین گیلن کر دیا گیا اور وہ بھی ابھی تک مکمل نہیں کیا گیا ۔ پی ٹی آئی نے بھی وعدے تو بہت کیے مگر K-4کو مکمل کرنے کے لیے عملاً کچھ نہیں کیا۔