یورپ بیماریوں کے کنٹرول مرکز ECDC نے کہا ہے کہ ماہِ اپریل کے دوران انگلینڈ اور برّاعظم یورپ میں "پُراسرار یرقان” کے 166 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
ECDC کی رِسک جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحت مند بچوں میں نامعلوم اسباب کی وجہ سے ظاہر ہونے والے کالے یرقان کے کیسوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انگلینڈ میں 20 اپریل سے اب تک 111 کیس اور یورپی یونین ممالک میں 27 اپریل سے اب تک 55 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یرقان کی وجوہات کے تعین کے لئے تحقیقی کاروائیاں جاری ہیں یورپ میں بچوں کو درپیش خطرے کا فی الحال مکمل طور پر جائزہ نہیں لیا جا سکا۔ انگلینڈ کے کیسوں کے ایک بڑے حصے میں مریضوں میں سانس میں انفیکشن کا سبب بننے والے آڈائینو وائرس کی بھی تشخیص ہوئی ہے۔ اس کا بڑھتے ہوئے آڈائینو وائرس کے ساتھ تعلق ہو سکتا ہے۔ موضوع کی مکمل نشاندہی کے لئے تحقیقات جاری ہیں۔
ECDC نے، ہر احتمال کے پیش نظر، آڈائینو وائرس سے بچاو کے لئے جگہوں کو جراثیم سے پاک رکھنے اور ہاتھوں کو صاف رکھنے جیسے حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
واضح رہے کہ عالمی ادارہ صحت نے 16 اپریل کو انگلینڈ میں 74 بچوں میں نامعلوم وجوہات کی بنا پر یرقان کی تشخیص کا اعلان کیا اور متاثرہ بچوں میں پیلاہٹ، اسہال، قے اور پیٹ کے درد جیسی علامات سے آگاہ کیا تھا۔