صدرِ یوکیرین ولا دیمر زیلنسکی نے روس کے ساتھ سلسلہ مذاکرات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے معاملے کو بلند سطح کے رسک سے منسوب کیا ہے۔
پولش اخباری نمائندوں سے انٹرویو میں زیلنسکی نے روس اور یوکیرین کے مابین دو ماہ سے زائد عرصےسے جاری جنگ کے بارے میں بعض بیانات دیے۔
اپنے ملک کے روس کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرنے والے زیلنسکی نے کہا کہ کسی بھی مذاکرات کے عمل کو مکمل طور پر ختم کرنا بلند سطح کے خطرات کا موجب بن سکتا ہے، یہ چیز روسی فوج کے مداخلت کردہ مقامات سے تعلق رکھتی ہے۔
دونوں ممالک کے وفود کے مختلف سطح پر آن لائن بات چیت کرنے کی وضاحت کرنے والے زیلسنکی نے کہا کہ ’’ہم کسی واحد اداکار کے اداکاری کرنے والے تھیڑ کے کھیل میں جگہ پانے کے خواہاں نہیں ہیں۔ روسی فریق اسیروں کے مبادلے کی اولین طور پر تصدیق کرتا ہے تا ہم بعد میں اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ ‘‘
انہوں نے بتایا کہ ان مسائل کے حل کے لیے دونوں سربراہان کی براہ راست ملاقات لازمی ہے۔
کیف میں ایک نئی اجتماعی قبر دریافت ہونے کا ذکر کرنے والے زیلنسکی نے کہا کہ ابتک اس طرح کی قبروں سے مجموعی طور پر 900 افراد کی نعشیں برآمد ہوئی ہیں۔