نیوزی لینڈ نے روس پارلیمنٹ کی بالائی شاخ ‘فیڈریشن کونسل’ اور دفاعی اداروں پر پابندیاں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریڈیو نیوزی لینڈ کی خبر کے مطابق نیوزی لینڈ نے کہا ہے کہ روس پارلیمنٹ کی بالائی شاخ فیڈریشن کونسل کے 170 اراکین اور دفاعی سیکٹر سے منسلک 6 روسی کمپنیوں اور اداروں پر پابندیوں لگا دی جائیں گی۔
نیوزی لینڈ کی وزیر خارجہ نانایا ماہوتا نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ حالیہ پابندیوں میں روس کی طرف سے یوکرین کے خلاف جنگ کے آغاز کے ذمہ داروں کو ہدف بنایا گیا ہے۔
ماہوتا نے کہا ہے کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن کی جنگی مشین غیر قانونی حملوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ جیسے جیسے روس کی یوکرین کے خلاف وحشت منظر عام پر آتی جائے گی ہم اسے اس کا بدل چکواتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا ہے کہ "ہم یوکرینی عوام کی حمایت کرتے ہیں اور روس کے صدر ولادی میر پوتن اور ان کی جنگی جنون میں مبتلا اسٹاف افسران کو اس وحشت کا ذمہ دار ٹھہرانا جاری رکھیں گے۔ روسی حکام پر سیاحتی پابندیاں 400 سے زائد افراد کو احاطے میں لے لیں گی۔ نیوزی لینڈ نے پابندیاں لگا کر، یوکرین میں روس کی غیر قانونی کاروائیوں میں شامل ہونے والوں کے مالیاتی جنت بننے کی روک تھام کی ہے”۔