ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نظام انصاف میں حکومتی مداخلت کیخلاف عدالت عظمیٰ کا از خود نوٹس

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے تفتیشی اداروں میں حکومتی مداخلت پرازخود نوٹس لے لیا۔افسران کوتبدیل کرنے اور ہٹانے پر سپریم کورٹ کے ایک جج کے نوٹ پرازخود نوٹس لیا گیا جس پر چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت آج کرے گا۔جج کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ کریمنلز معاملات میں حکومتی عہدوں پر موجود لوگ مداخلت کررہے ہیں، خدشہ ہے کہ اس مداخلت سے پراسیکیوشن کے معاملات پر اثرانداز ہوا جاسکتا ہے۔جج کا نوٹ میں کہنا ہے کہ ٹیمپرنگ اورشہادتیں غائب ہونیکاخدشہ ہے، ایسے اقدامات اور میڈیارپورٹس کریمنلز جسٹس سسٹم کی اہمیت کم کرنے کی کوشش ہے، اس سے ملک میں قانون اور آئین کی حکمرانی اور عوام کا اعتماد مجروح ہورہا ہے۔نوٹ کے مطابق پراسیکیوشن برانچ کے افسران کے تبادلے اورتفتیش سے ہٹانے کے اقدامات کی خبریں ہیں، ایسے حکومتی اقدامات سے عوام کا فوجداری نظام عدل پر اعتماد مجروح ہوگا، موجودہ حکومت کے اعلیٰ حکام کی جانب سے پراسیکیوشن معاملات میں مداخلت کا تاثرہے، پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کی آزادی موجودہ حکومتی شخصیات کے خلاف تحقیقات میں متاثر ہورہی ہے۔اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے ازخود نوٹس کی سماعت 19مئی دن ایک بجے کے لیے مقررکردی ہے۔چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 5 رکنی لارجربینچ ازخودنوٹس کی سماعت کریگا۔ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر ، جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی اور جسٹس محمد علی مظہر بھی بینچ کا حصہ ہوں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں