برسلز (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپی حکام نے ہزاروں تارکین وطن کو یورپی ممالک میں اسمگل کرنے والے گروہ کو گرفتار کرلیا ۔ خررساں اداروں کے مطابق یورپین پولیس نے تارکین وطن کو امیر یورپی ممالک میں اسمگل کرنے والے گروہ کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ اس دوران آسٹریا، چیک ری پبلک، ہنگری، سلوواکیا اور رومانیامیں چھاپے مارے گئے اور کارروائی کے دوران 205 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ آسٹریا کے وزیر داخلہ گیر ہارڈ کارنر کا کہنا ہے کہ ان کے ملک میں 92 گرفتاریاں ہوئی، جب کہ دیگر افراد ہنگری، رومانیا، سلواکیااور جمہوریہ چیک سے پکڑے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منظم جرائم کے خلاف یہ ایک اہم کامیابی ہے اور انسانی اسمگلر مافیا کے لیے بڑا دھچکا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ گروہ نے 2021 ء کے آغاز سے اب تک تقریباً 36 ہزار سے زائد شامی مہاجرین کو یورپی یونین میں اسمگل کیا ہے۔ تارکین وطن کو ہنگری سے امیر یورپی ممالک منتقل کرنے کے لیے 3 ہزار سے 4 ہزار یورو وصول کیے گئے۔ تارکین وطن کو ہنگری سے پہلے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا منتقل کیا گیا جاتا تھا، جہاں سے انہیں جرمنی، فرانس، بلجیم اور نیدرلینڈز روانہ کیا جاتا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ گروہ نے انسانی اسمگلنگ کے ذریعے 15کروڑ 20لاکھ یورو سے زائد رقم کمائی ۔ گروہ کا سرغنہ 28 سالہ رومانیا کا شہری ہے، جسے سب سے پہلے 4 مئی کو اس کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گروہ کا ہیڈکوارٹر ویانا میں قائم تھا۔