ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

حریت لیڈر شپ کو ختم کیا جارہا ہے،یاسین ملک کو بھارتی جیل میں زہر دیا گیا ،پھانسی دی جاسکتی ہے،مشال ملک

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا ہے کہ یاسین ملک کو جیل میں زہر دیا گیا،حریت لیڈر شپ کو ختم کیا جارہا ہے‘ یاسین ملک کو بھارتی عدالت یکطرفہ طورپر عمر قید یا پھانسی کی سزا سناسکتی ہے‘وکیل برین ہیمرج کے باعث اپیل نہیں کرسکتے‘ آج جینوامیں اپیل جمع کرانے کا آخری دن ہے‘ پاکستان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو فوری خط لکھے اورعدالتی استحصال پر درخواست دائر کرے‘ کلبھوشن طرز پر یاسین ملک تک رسائی دی جائے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے کہا کہ وقت کم ہے، 25 تاریخ کو یاسین ملک کو سزا سنائی جانی ہے، یاسین ملک کو فلموں کے ذریعے ولن یا سب سے بڑا ظالم دکھایا جارہا ہے۔مشال ملک نے کہا کہ یاسین ملک نے عدالت میں کہا کہ کشمیریوں کی تحریک کی سربراہی کر رہا ہوں، یاسین ملک کے وکیل راجہ طفیل کو اچانک برین ہیمریج ہوگیا اور کل جنیوا انسانی حقوق کانفرنس میں اپیل جمع کرانے کا آخری دن ہے۔انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان یاسین ملک کے عدالتی استحصال پر درخواست دائر کرے، دنیا کا کوئی قانون ایک خاندان کو علیحدہ نہیں کرسکتا۔یاسین ملک کی اہلیہ نے یہ بھی کہا کہ شادی کو 13 سال ہوگئے، آج تک خاندان کو ایک ساتھ رہنے نہیں دیا گیا، قیدیوں کو حاصل حقوق بھی یاسین ملک کو نہیں مل رہے۔اُن کا کہنا تھا کہ سید علی گیلانی کی رحلت پر ان کے خاندان کے ساتھ بے رحمی کا مظاہرہ کیا گیا۔اُنہوں نے مطالبہ کیا کہ جس طرح کلبھوشن کو قونصلر رسائی دی گئی، مجھے بھی حق دیا جائے۔ مشال ملک نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر کی حریت لیڈر شپ کو دانستہ طور پر ختم کیا جارہا ہے، دنیا شاید چاہتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں نیوکلیئر جنگ چھڑے۔اُنہوں نے کہا کہ یاسین ملک کو وکلاء کی سہولت نہیں دی جا رہی، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری یاسین ملک کا کیس لڑنے میں مدد فراہم کریں۔ مشال ملک نے یہ بھی کہا کہ یاسین ملک کا عدالتی قتل کیا جارہا ہے، دنیا یاسین ملک کی رہائی میں مدد کرے، یاسین ملک کا کیس وزیر خارجہ بین الاقوامی عدالت میں لے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یاسین ملک کو ساڑھے 3سال سے ڈیتھ سیل میں رکھا ہوا ہے جہاں پر مقبول بٹ اور افضل گورو کو پھانسی دی گئی اور ان کی لاشیں بھی نہیں دیں۔ مشعال ملک نے کہا کہ عدالتی کارروائی میں یاسین ملک کو اپنا موقف بھی بیان نہیں کرنے دیا جاتا اور نہ ہی ان کو وکیل کی سہولت دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور خاندان ہماری اپیل انسانی حقوق کونسل جنیوا پہنچائی جائے جس کا 13جون کو اجلاس ہوگا تاکہ یاسین ملک کے عدالتی قتل کو روکا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یاسین ملک کے حق میں بولنے والوں کو ہراساں کیا جاتا ہے، غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر تسلط جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے جس کے کیس بھارتی عدالتوں کی بجائے عالمی عدالتوں میں سنے جانے چاہئیں‘ یاسین ملک تین سال سے شدید بیمار ہیں اوران پر تشددکیا جا رہا ہے جبکہ جعلی عدالتوں کے کالے قوانین کے تحت مظالم جاری ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، انسانی حقوق کی عالمی کونسل سمیت دیگر اداروں کو خط لکھے جائیں اور بطور متاثرہ فریق مجھے اور میری بیٹی کو بھی اجلاس میں شرکت کا موقع دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اپنے دہشتگرد کلبھوشن یادیو کیلیے عالمی عدالت انصاف گیا تاکہ اسے قونصلر رسائی مل سکے، انہوں نے حکومت پاکستان، پاکستانی عوام اور دنیا بھر میں مقیم کشمیر برداری سے اپیل کی کہ بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کی جائے تاکہ کشمیری قوم کی نسل کشی کو روکا جا سکے۔انہوں نے کہاکہ بھارت پر دفاعی اور اقتصادی پابندیاں لگائی جائیں کیونکہ عالمی معاہدوں پر دستخط کرنے کے باوجود انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہا ہے اور مودی حکومت آئندہ انتخاب کی تیاری اور ہندوتوا کے ووٹ حاصل کرنے کیلیے یاسین ملک کو پھانسی دینا چاہتی ہے۔وفاقی وزیر انسانی حقوق ریاض پیرزادہ نے کہا کہ یاسین ملک کی اہلیہ اور بیٹی 8 سال سے ان سے مل نہیں سکیں، یاسین ملک کو وکیل نہیں دیا گیا، کیس یکطرفہ چلایا جارہا ہے‘ جون میں جینوا جاؤں گا اور پوری تیاری سے اپنا کیس لڑوں گا، حکومت پاکستان کی جانب سے یاسین ملک کی سزا پر سخت احتجاج کررہا ہوں۔اُنہوں نے کہا کہ آئین و قانون کی پابندی کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں صحافیوں نے دی ہیں، ماسوائے صحافت باقی تمام طبقات نے ظلم سے منہ موڑ لیا ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر دنیا کیوں سوگئی ہے؟ دنیا نے چند ڈالرز کے عوض ظلم سے منہ موڑ لیا ہے۔ریاض پیرزادہ نے مزید کہا کہ کشمیر میں 8 ہزار اجتماعی قبریں ہیں اور 10 ہزار نوجوان لاپتہ ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ کشمیر میں میڈیا پرسخت پابندیاں ہیں،صحافی رپورٹ نہیں کرسکتے‘بھارتی مظالم پر دنیا خاموش ہے، حریت رہنما یاسین ملک کے خلاف بھارتی مظالم پر پوری دنیا میں آواز اٹھائیں گے، انسانی حقوق کونسل سمیت دیگر عالمی فورمز پر یاسین ملک پر کیے جانے والے بھارتی مظالم کے حوالے سے آواز بلندکی جائے گی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں