ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

بائیڈن جاپان میں ،شہنشاہ ناروہیتو اور وزیراعظم سے ملاقات

امریکی صدر جو بائیڈن نے جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا سے ٹوکیو میں ملاقات کی ہے۔

ایشیا کے اس خطے میں، امریکہ پر اپنے اسٹریٹیجک شراکت داروں کے ساتھ اتحاد کو مضبوط کرنے کا دباؤ ہے اور اس لحاظ سے بائیڈن کے اس دورے کو کافی اہم سمجھا جارہا ہے۔

ٹوکیو میں بائیڈن نے اپنے اچھے دوست کشیدا کو اس بات کا یقین دلایا ہے کہ چین کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور یوکرین پر روسی حملے کے وسیع تر پس منظر میں امریکہ جاپان کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔

ٹوکیو کے مرکز میں واقع شاہی محل میں جاپانی وزیر اعظم فومیو کشیدا کے ساتھ بات چیت  کے آغاز میں جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اور جاپان کا اتحاد طویل عرصے سے ہند بحرالکاہل میں امن اور خوشحالی کا ضامن رہا ہے اور امریکہ جاپان کے دفاع کے لیے پوری طرح سے پرعزم ہے۔

بائیڈن نے اس کے علاوہ آج  شاہی محل میں جاپان کے شاہ ناروہیٹو سے بھی ملاقات کی جو کہ آدھ گھنٹے جاری رہی ۔

سرکاری خبر ایجنسی NHK کے مطابق، صدر جو بائیڈن ٹوکیو میں اپنے قیام کے دوران ہی انڈو پیسیفک اکنامک فریم ورک برائے خوشحالی کے نام سے ایک نئے تجارتی منصوبے کا اعلان کریں گے۔

اس معاشی منصوبے کے تحت، ڈیجیٹل معیشت، ، صاف توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور انسداد بدعنوانی کے اقدامات کے شعبوں کے متفقہ معیارات کے مطابق، سبھی شراکت داروں کو ایک ساتھ مربوط کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ تاہم اس میں ٹیرف پر گفت و شنید کرنے یا مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانے پر کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

اس نئے گروپ میں کون کون سے ممالک شامل ہوں گے، اس بارے میں بھی ابھی تک سرکاری سطح پر کچھ نہیں معلوم ہے۔ تائیوان نے پہلے یہ بات کہی تھی کہ وہ آئی پی ای ایف کا حصہ بننا چاہے گا، لیکن امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے بائیڈن کے سفر سے پہلے واضح کر دیا تھا کہ تائی پے ان ممالک میں شامل نہیں ہو گا۔

صدر بائیڈن اور فومیو کشیدا اس موقع پر کواڈ گروپ اجلاس کے لیے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور آسٹریلیا کے نو منتخب وزیر اعظم انتھونی البانیز سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں۔

 واضح رہےکہ کواڈ گروپ امریکہ، جاپان بھارت اور آسٹریلیا پر مشتمل ہے اور ان چاروں میں سے بھارت واحد ملک ہے جس نے یوکرین پر روسی حملے کی کھل کر مذمت نہیں کی اور نہ ہی اس ملک کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کیے ہیں۔

نریندرہ مودی اور بائیڈن  کل جاپان میں بالمشافہ بات چیت  کے لیے الگ سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں