حکومت پاکستان نے قومی اور مقامی صحت کے حکام سے مونکی پوکس(monkeypox) وائرس سے چوکنا رہنے کی اپیل کی ہے۔
روزنامہ ڈان کی خبر کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں مونکی پاکس کے دیکھے جانے کی خبر خبر غلط ہے ۔
دوسری جانب وزارت صحت نے ایک بیان جاری کیا جس میں قومی اور مقامی صحت کے حکام کو مونکی پوکس وائرس کے خلاف محتاط رہنے کو کہا گیا ہے۔
وزیر صحت عبدالقادر پٹیل نے اعلان کیا کہ انہوں نے اس سے قبل بیماری کا پتہ لگانے کے لیے ٹیسٹ کٹس استعمال کرنے کا حکم دیا تھا، لیکن ملک بھر میں مونکی پاکس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔
مونکی پوکس، جسے مقامی وائرس کی وجہ سے ہونے والی نایاب بیماریوں میں سے ایک کے طور پر جانا جاتا ہے، کو کانگو اور مغربی افریقی انواع کے طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اطلاع کے مطابق کانگو وائرس میں اموات کا خطرہ 10 فیصد تک ہے جب کہ مغربی افریقی وائرس میں ہر 2 میں سے ایک کیس میں اموات کی شرح دیکھی گئی ہے۔
یہ وائرس، جو عام طور پر جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور شاذ و نادر ہی انسان سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے، تیز بخار اور جسم پر خارش والے چھالوں کا سبب بن سکتا ہے۔