پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات فرخ حبیب نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی جماعت کے ارکان قومی اسمبلی استعفوں کی تصدیق کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔انہوں نے بتایا کہ ’پی ٹی آئی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم قومی اسمبلی سے مستعفی ہو چکے ہیں اور استعفوں کی تصدیق قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی جانب سے ہو گئی تھی جس کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی جانب سے استعفوں کی دوبارہ تصدیق رولز کی خلاف ورزی ہے۔ ایک بار استعفے منظور ہونے کا نوٹیفیکیشن جاری ہوگیا تو دوبارہ تصدیق کے لیے پیش ہونے کی ضرورت نہیں۔
خیال رہے کہ تحریک انصاف کے ارکان نے 11 اپریل کو قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اجتماعی استعفے سپیکر آفس میں جمع کروائے تھے۔ قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے تحریک انصاف کے 123 ارکانِ قومی اسمبلی کے استعفے منظور کرلیے تھے۔ استعفے منظور کرتے وقت قاسم سوری کا کہنا تھا کہ ’تحریک انصاف کے 125 ارکان کے استعفے موصول ہوئے تھے تاہم دو ارکان کی جانب سے استعفوں کی تصدیق نہیں کی گئی۔
تحریک انصاف کے چیئرمین نے 9 اپریل کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے پہلے قومی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ پارٹی کے 131 ارکان نے مشترکہ طور سے استعفے جمع کروائے جو ایک پہلے سے سائیکلو اسٹائل کاغذ پر دستخط کر کے دیے گئے تھے۔ اس وقت کے ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے اگرچہ ان استعفوں کو قبول کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کیا تھا لیکن اسمبلی سیکریٹریٹ نے ان ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے لئے الیکشن کمیشن کو کوئی باقاعدہ خط روانہ نہیں کیا تھا۔ ابھی تک قومی اسمبلی سے تحریک انصاف کے استعفوں کا معاملہ تعطل کا شکار ہے۔ اب استعفوں کی تصدیق کے عمل میں شریک ہونے سے انکار کے ذریعے عمران خان اس معاملہ کو بدستور تعطل میں رکھنا چاہتے ہیں۔
عمران خان نے بھی رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ پارٹی استعفوں کے سوال پر یو ٹرن نہیں لے گی۔ ان کے خیال میں راجہ پرویز اشرف کا خط دراصل تحریک انصاف کے ارکان کو پھنسانے کے لئے بہت بڑا جال ہے۔ اس بیان سے وہ اپنے ہی ارکان اسمبلی کی نیک نیتی پر عدم اعتماد کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ انہیں اندیشہ ہے کہ اگر یہ عمل اسپیکر کی مرضی و منشا کے مطابق پورا کیا گیا تو تحریک انصاف کے بہت سے ارکان شاید اپنے ہی استعفوں کی تصدیق نہ کریں۔ اسمبلی سیکرٹریٹ کے ذرائع سے یہ خبریں سامنے آ چکی ہیں کہ مشترکہ طور سے دیے گئے بہت سے ارکان کے استعفوں میں کیے گئے دستخط اسمبلی ریکارڈ میں موجود دستخطوں سے مماثلت نہیں رکھتے۔ اسپیکر کے سامنے تصدیق کے دوران ہو سکتا ہے ایسے ارکان اس جعل سازی کا اقرار کر لیں۔ یہ صورت حال تحریک انصاف کی شہرت کے لئے شدید نقصان دہ ہوگی۔
تحریک انصاف کے قائدین کے بیانات سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ اگر حکومت بجٹ سیشن کے بعد اسمبلی تحلیل کر کے نئے انتخابات کا اعلان نہیں کرتی تو پھر بھی تحریک انصاف باقی ماندہ مدت کے لئے بھی اسمبلی میں واپس نہیں آئے گی۔ یوں لگتا ہے کہ عمران خان 2014 کی طرح قومی اسمبلی سے استعفوں کو سیاسی ہتھکنڈے کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم اگر یہ حربہ کارگر نہ ہوا تو وہ اپنی حکمت عملی پر از سر نو غور کریں گے۔ یعنی انہوں نے تمام سیاسی آپشنز کھلے رکھے ہیں۔
اسمبلیوں سے استعفوں کے معاملہ میں عمران خان کی حکمت عملی غیر واضح اور ناقابل فہم ہے۔ انہوں نے امریکی سازش کا چورن بیچ کر اپنے حامیوں کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومت کو ناجائز طریقے سے ختم کیا گیا تھا لیکن وہ مسلسل اسٹبلشمنٹ یا عدالت سے یہ امید کر رہے ہیں کہ کسی بھی طرح موجودہ انتظام کو لپیٹ کر صرف قومی اسمبلی کا دوبارہ انتخاب کروانے کا اہتمام کیا جائے تاکہ کسی طرح عمران خان دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں۔ یہ بات نوٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلیوں یا آزاد کشمیر و گلگت بلتستان اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ موجودہ نظام کو نہ ماننے کا اعلان کرنے کے باوجود اسے برقرار رکھنا چاہتے ہیں، عمران خان ابھی تک یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی ایسا سانحہ ہو جائے یا کسی غیر منتخب ادارے کی طرف سے کوئی ایسا دباؤ آ جائے کہ قومی اسمبلی کا انتخاب ہو سکے۔
بدھ، یکم جون 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
The post تحریک انصاف اسمبلی میں واپس کیوں آنا چاہتی ہے؟ appeared first on شفقنا اردو نیوز.