ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسپین: خوراک کو کوڑے میں پھینکنے والے کو جرمانہ بھرنا پڑے گا

اسپین میں، کھانا کوڑے میں پھینکنے والے کو 5 لاکھ یورو جرمانہ دینا پڑے گا۔

اسپین کی بائیں بازو کی اتحادی  حکومت نے کھانے کے اسراف  پر جرمانے کی سزا سے متعلق قانونی بِل کی منظوری دے دی ہے۔

فیصلے کے بعد اسپین کے وزیر برائے زراعت، خوراک اور ماہی گیری  لوئس پالاناس نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ "ہمارا مقصد قانون کی مدد سے معاشرتی شعور میں اضافہ کرنا ہے۔ خوراک کو  انسانی استعمال کے لئے فوڈ بینکوں کو عطیہ کرنے اور خوراک  کے نقصان اور اسراف کے سدّباب کے لئے معاشرے کو بحیثیت کُل باشعور بنانا ضروری ہے”۔

پالاناس نے کہا ہے  کہ غذائی زنجیر  والی کمپنیوں کے لئے ضروری ہے کہ  خوراک کے اسراف کو کم سے کم کرنے اور خوراک کے انسانی استعمال  کو پہلی ترجیح بنانے  کے لئے کوئی  منصوبہ بندی کریں۔

انہوں نے کہا ہے کہ مذکورہ قانون 1300 مربع میٹر سے چھوٹے ریستورانوں  پر عائد نہیں ہو گا۔ کھانے کے لئے موزوں  تھالیاں اور گلاس استعمال کئے جائیں گے اور باقی بچ جانے والے کھانے کو کسی بھی اضافی اجرت کے بغیر واپس وصول کرنا ضروری ہو گا۔

اسپین وزارت زراعت کے 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق سال بھر میں ملک میں فی کس اوسطاً31 کلو گرام/ لیٹر  اور کُل ایک بلین 364 ملین کلوگرام/ لیٹر غذائی مصنوعات کوڑے میں پھینک دی گئیں۔

غذائی اسراف  کے مرتکب افراد کو قانونی بِل  کی رُو سے 2 ہزار سے 5 لاکھ یورو تک جرمانہ کیا جا سکے گا۔ مذکورہ بِل سال کے آخر تک پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد یکم جنوری 2023 میں نافذ العمل ہو جائے گا۔

قانون نافذ العمل ہونے کی صورت میں  اسپین یورپی یونین ممالک میں فرانس اور اٹلی کے بعد غذائی اسراف کے سدّباب کے لئے قانون بنانے والا تیسرا ملک ہو گا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں