سنگاپور : سنگا پور کی ایک ڈسٹرکٹ عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر اسلام مخالف پوسٹ کرنے والے نوجوان کو 18 ماہ کی قید سزا سنائی دی ۔ مجرم سن سیکونگ، ٹیماسیک پولی ٹیکنک کے طالب علم ہے جو سنگاپور کا مستقل رہائشی ہے۔
مجرم نے مئی میں دوسروں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کی نیت سے آن لائن ریمارکس اپ لوڈ کرنے کا جر م اعتراف کیا۔ اس نے یہ جرم 2018 اور 2019 کے درمیان کیا۔
ابتدائی طور پر مجرم سن سیکونگ کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جارحانہ انسٹا اسٹوری پوسٹس پر کوئی پولیس رپورٹ درج نہیں کی گئی۔ عدالت نے مجر م جو اب 21 سال کا ہے کا اخلاق بہتر بنانے کے لیے روزانہ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک گھر کے اندر رہنے کا اور 60 گھنٹے سماجی خدمات سرانجام دینے کا حکم دیا ۔
مجرم کے اچھے برتاؤ کو یقینی بنانے کے لیے اس کے والدین کو بھی پانچ ہزار ڈالر جرمانے کے طور پر خر چ کرنے کا حکم دیا گیاہے۔ ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر سینتھیل کمارن سباپتی نے عدالت کو بتایا تھا کہ7 جون 2020 کو توہین آمیز پوسٹس آن لائن دوبارہ سامنے آئیں۔
جب ملزم نے مزید غیر حساس انسٹا اسٹوری پوسٹس بنائی اور آن لائن اپ لوڈ کیں جس میں ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی کا اسکرین شاٹ تھا۔دوسرے انسٹاگرام صارفین سن کی پوسٹس دیکھ کر پریشان ہو گئے اور اسے جواب دیا۔
اس کے بعد انہوں نے اس کی سابقہ اسلام مخالف پوسٹس کے اسکرین شاٹس کا حوالہ دیا جو کہ جلد ہی وائرل ہوگئیں۔پوسٹس کو انٹرنیٹ پر بڑے پیمانے پر پھیلایا گیا اور بعد میں پولیس کو عوام کی جانب سے 62 رپورٹس موصول ہوئیں جو اسلام مخالف پوسٹس کو دیکھ کر خوف زدہ اور گھبرا گئے تھے۔
پولیس نے کہا کہ جون 2020 میں، انہیں “ایک انسٹاگرام صارف کے حوالے سے بہت سی رپورٹس موصول ہوئی تھیں جس نے غیر حساس تبصرے اور دھمکیاں پوسٹ کی تھیں جو مسلم کمیونٹی کے خلاف تشدد کو ہوا دے سکتی ہیں۔
پولیس نے مزید کہا کہ پوسٹس میں نفرت انگیزمواد تھے جو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا سکتے ہیں۔ وہ سنگاپور میں نسلی اور مذہبی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے والی کارروائیوں کو سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔ دفاعی وکیل جسٹن این جی نے مئی میں ڈسٹرکٹ جج کیسلر سوہ کو بتایا تھا کہ ان کے موکل 18 سال کے قریب تھے جب انہوں نے پوسٹیں کیں اور نابالغ ہونے کی وجہ سے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا۔