وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سے زیادہ عسکری قیادت جبری گمشدگیوں کے خلاف ہے مگر وہ مجبور ہیں ۔ باتیں پبلک نہیں کی جا سکتیں، اس سے لاپتہ افراد کے لواحقین کی دل آزاری ہوگی۔
آج ٹی وی کے پروگرام ”سپاٹ لائٹ” میں لاپتہ افراد کے معاملے پر خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں، جتنا اس کو سمجھا جاتا ہے۔ قومی سلامتی کمیٹی کی حالیہ میٹنگ میں بھی اس معاملے پر بڑی کھل کر بات چیت کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ حساس معاملہ ہے اور میٹنگ میں ہونے والی باتوں کو عام نہیں کیا جا سکتا۔ عسکری قیادت ان گمشدگیوں کیخلاف ہے۔ ہم جتنی سوچ سمجھ رکھتے ہیں، اس سے زیادہ انہوں نے ایسے معاملات کی کھل کر مذمت کی۔
وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں عسکری قیادت نے کہا کہ جبری گمشدگیاں نہیں ہونی چاہیں۔ اس پر پروگرام کی میزبان نے پوچھا کہ آخر ان کو کیا مجبوری ہے۔
"Javed Iqbal should be removed as head of the commission of inquiry on enforced disappearances the commission should be reformed as it has completely failed in its purpose,”says Interior Minister .@RanaSanaullahPK #MissingPerson .@FarhatullahB .@HRCP87 .@voicepkdotnet https://t.co/odrovIpWjm
— Munizae Jahangir (@MunizaeJahangir) June 29, 2022
اس کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ ان مجبوریوں کو پبلک میں ڈسکس نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر ایسا ہوا تو اندیشہ ہے کہ اس سے گمشدہ افراد کے لواحقین کی دل آزاری ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے لواحقین کا مطالبہ ہے کہ ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ حتیٰ کہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص اب دنیا میں نہیں رہا تو اس کے بارے میں ان کے اہلخانہ کو سب سچ سچ بتا دیا جائے تاکہ وہ صبر شکر کر لیں۔
On #MissingPerson .@RanaSanaullahPK Interior Minister says that the military condemns the practise but the parliament has to find the solution.Sanaullah says that bill on enforced disappearance does not contain the solution to the problem! .@FarhatullahB .@voicepkdotnet .@HRCP87 https://t.co/qxtTsIxOEo
— Munizae Jahangir (@MunizaeJahangir) June 29, 2022
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس میں چیلنج درپیش ہیں اور اسے صرف اور صرف پارلیمنٹ ہی حل کر سکتی ہے۔ لیکن تمام فریقین کو مل بیٹھنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے معاملے پر جتنے بھی لائے جائیں، انہوں نے گم ہی ہونا ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی حل نہیں ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جسٹس (ر) جاوید اقبال کی سربراہی میں جبری گمشدگیوں کے کمیشن نے کوئی کام نہیں کیا اور اس کمیشن کو دوبارہ بننا چاہیے، اس کا سربراہ حاضر سروس جج کو ہونا چاہیے۔