کراچی(رپورٹ:منیرعقیل انصاری) پاکستان پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت نے ناقص منصوبہ بندی اور کراچی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں اثر انداز ہونے کے لیے جلدبازی میں پیپلز بس سروس کا آغاز کردیا۔تین روز قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلال بھٹو زرداری نے روٹ نمبر1 ماڈل کالونی سے ٹاور چلنے والی بس کا افتتاح کیا تھا جس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ بس 54 سیٹر ہے جبکہ اس میں وائی فائی کی سہولت موجود ہوگی ہے لیکن ان کے دعویٰ کے برعکس بس میں وائی فائی ڈیوائس تو موجود ہے لیکن وائی فائی کام نہیں کررہا ہے۔اورچلنے والی ریڈ بس نہ 54 سیٹر ہے بس صرف29 سیٹوں پر مشتعمل ہے جس میں خواتین کی نشتوں کی تعداد 10 ہے جبکہ17 نشتں مردوں کے لیے اور 2 نشت خصوصی افراد کے لیے مختص ہے۔بس کو لوکل ٹرانسپورٹ بنا دیا گیا ہے۔بس میں مسافروں کو اورلوڈ کردیا جاتا ہے،بس میں سوار کنڈیکٹر نے اپنانام نہ ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں یکطرفہ روٹ پر5ہزار روپے کرایہ وصول کرنے کا ٹارگیٹ دیا گیا ہے جس کے لیے ہم زیادہ مسافروں کو بس میں سوار کرارہے ہوتے ہیں تاکہ ہم اپنا ٹارگیٹ پورا کر سکے۔انہوں نے کہا کہ خان ٹرانسپورٹ کمپنی کو اس بس کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ماڈل کالونی تا ٹاور بس سروس شروع کرنے سے قبل اس کی آزمائشی سروس بھی شروع کی گئی تھی تاہم اس کے باوجودجمعرات کی شب ٹاور سے ماڈل کالونی ملیر کے لیے روانہ ہونے والی پیپلز بس ٹاور سے چند فاصلے پر اچانک بند ہوگئی۔متعدد بار اسٹارٹ کرنے کے باوجود بس ڈرائیور سے فوری طور پر اسٹارٹ نہیں ہوسکی اور اسی دوران بس کے ایئر کنڈیشن نے کام کرنا بند کردیا تھا، شدید پریشانی کی وجہ سے بس میں سوار بزرک ،بچے ،خواتین اور دیگرمسافر فوری طور پر بس سے نیجے اتر گئے ۔بس میں سوار مسافروں نے جسار ت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے بغیر کسی منصوبہ بند ی کے پیپلز بس سروس کا آغاز کیا ہے جس میں نہ تو ڈرائیور تربیت یافتہ ہے اور نہ ہی کنڈیکٹر کو اس طرح کی بس کے لیے کوئی تربیت دی گئی ہے۔بس میں ڈرائیور تو وردی میں موجود ہوتا ہے لیکن کنڈیکٹر بغیر وردی کے مسافروں سے کرایہ وصول کرتا ہے اور کرایہ وصول کرنے کے بعد مسافروں کو کوئی ٹکٹ فراہم نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کنڈیکٹر بار با ر مسافروں سے کرایہ طلب کرتا ہے ،بار بار کرایہ طلب کرنے پر مسافروں اور کنڈیکٹر کے درمیان بسوں میں تلخ کلامی بھی ہوئی ہے۔مسافروں نے غصے سے کنڈیکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم ہمیں ٹکٹ جاری کرو،بار بار ہم سے کرایہ کیوں مانگ رہے ہو۔جبکہ چھوٹے سے چھوٹے اسٹا پ کا کرایہ 50روپے وصول کیا جارہا ہے۔
ٹینک چوک ملیر سے ماڈل کالونی ایک چھوٹے سے اسٹا پ کے لیے فی مسافر50 روپے وصول کیے جارہے ہیں جبکہ وزیر ٹرانسپورٹ کی جانب سے کہا گیا تھا کہ کرایہ 25سے 50روپے مقرر کیے گیا ہے۔پیپلز بس سروس کے لیے نہ تو ماڈل کالونی میں بس ڈپو بنایا گیا ہے اور نہ ہی ٹاور پر بسوں اور مسافروں کے لیے کوئی بس اسٹینڈ بنایا گیا ہےٹاور پر کچرا کنڈی کے سامنے بسیں کھڑی ہوجاتی ہے جہاں پر شدید تعفن کی وجہ سے مسافروں خصوصا خواتین کو بس کے انتظار میں کھڑے ہونے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔
تاحال بسوں کے لیے کوئی مخصوص اسٹاپ بھی نہیں بنائے گئے ہیں،مسافروں نے کہا کہ بسوں کی کمی کے باعث رش بہت زیادہ ہوتا ہے ناقص منصبوبہ بندی کے باعث شہریوں کو سفری سہولت نہیں مل رہی ہے۔
اس کے علاوہ بس اسٹاپ آنے سے قبل بس میں باقاعدہ کوئی اعلان نہیں ہوتا ہے جس سے مسافروں کو آسانی سے پتا لگ سکے کہ کونسا بس اسٹا پ آیا ہے جس طرح پاکستان کے دیگر شہروں خصوصا لاہور کے میٹر وبسوں میں خود کار طریقے سے بس اسٹا ف آنے سے قبل بس اسٹاپ کے بارے میں اعلان کردیا جاتا ہے،جس سے بچوں، ضعیف العمر اور اجنبیوں کو آسانی ہوسکے۔پیپلز بس سروس میں مسافروں کے لئے ای ٹکٹ کا نظام بھی متعارف نہیں کیا گیا ہے، اس سے بس میں کنڈیکٹر کا کام بھی آسان ہوسکتا ہیں اگر بس ا سٹاب پرمشین نصب کردی جائے تو مسافر بس میں سوار ہونے سے قبل ای ٹکٹ ا،سمارٹ کارڈرکے ذریعے کرایہ کی ادائیگی کرسکتے ہیں۔
مخصوص بس اسٹا پ نہ ہونے کی وجہ سے بار بار بس کے رکنے کی وجہ سے بس انتہائی سست روی کا شکار رہتی ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔دوسری جانب اس ناقص منصوبہ بندی سے ایک اور ظلم یہ ہوا ہے کہ پیپلز بس سروس میں طلبہ و طالبات کے لیے رعایتی ٹکٹ کی سہولیات میسر نہیں ہے ۔ اس حوالے سے موقف جاننے کے لیے سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر (ایم ڈی)کیپٹن (ر) الطاف حسین ساریو سے ان کے نمبر پر متعدد بار رابط کرنے کی کوشش کی تاہم انہوں نےفون کا ل اٹینڈ نہیں کی۔