حیدر آباد میں پختون ہوٹل مالک کے ہاتھوں سندھی نوجوان بلال کاکا کے قتل کے بعد سندھی اور پشتون قوم پرست آمنے سامنے آگئے۔
حیدرآباد بائی پاس پرواقعہ ہوٹل میں عید قرباں کے دوسرے روز گاہکوں اور ہوٹل مالکان اور ملازمین کے درمیان جھگڑے میں سندھی نوجوان بلال کاکا جاں بحق ہوگیا تھا، جبکہ جھگڑے میں دونوں اطراف کے پانچ افراد زخمی ہوئے تھے۔
سندھی قوم پرستوں کا الزام ہے کہ حیدرآباد بائی پاس کے پاس نگر چوک پر قائم سپر سلاطین ہوٹل کے مالک نے بلال نامی نوجوان کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کیا، حیدرآباد بائی پاس کے پاس نگر چوک پر قائم سپر سلاطین ہوٹل کے مالک نے بلال نامی نوجوان کو بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کیا۔
گذشتہ روز نوجوان بلال کاکا کے لواحقین نے لاش سمیت حیدرآباد بائی پاس پر دھرنا دیا جس میں سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے افراد نے بھی شرکت کی۔
دھرنے کے باعث قومی شاہراہ پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی دھرنے کی اطلاع پر ایس ایس پی حیدرآباد امجد شیخ جائے وقوعہ پر پہنچے اور مظاہرین سے مذاکرات کرکے ان کے مطابق ایف آئی آر درج کرنے کی یقین دہانی کروائی جس کے بعد بھٹائی نگر تھانے پر واقعہ کی ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
ایف آئی آر میں قتل اقدام قتل اور دہشت گردی کی دفعات شامل کی گئی ہیں اور چار ملزمان سمیت چھ نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے گذشتہ روز ہی ایک نامزد ملزم شہسوار کو گرفتار کر لیا تھا جبکہ تین ملزمان فرار ہیں۔
پشتونوں کا کہنا ہے کہ مقتول بلال کاکا ہوٹل مالکان سے بھتہ وصول کرتا تھا اور اس روز وہ شراب کے نشے میں ہوٹل پہنچا، بل نہ دینے پر مسئلہ بڑھا، بلال کاکا اور ان کے ساتھیوں نے ہوٹل مالک اور ملازمین پر تشدد کیا جبکہ دفاع میں بلال کاکا پر گولی چل گئی۔
اس واقعے کے بعد ملک بھر کے سندھی اور پشتون قوم پرست آمنے سامنے آگئے ہیں۔ سندھی قوم پرستوں نے سندھ بھر میں موجود مختلف پشتون ہوٹلز پر دھاوا بول دیا، جس کے بعد سندھ بھر کے بیشتر ہوٹلز بند ہیں۔
پشتون قوم پرستوں کی جانب سے ٹوئٹر پر "پشتون_کوجینےدیں” کا ٹرینڈ چلایا جارہا ہے۔
پاکستان کی سرزمین پر جب بھی سخت وقت آیا تو پشتونوں نے سندھی کا بھی دفاع کیا بلوچ و پنجابی کا بھی.
اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ پشتون قوم اپنا حق نہیں مانگ سکتی کیا پشتون انسان نہیں یا پشتون کا خون انسانیت کا خون نہیں؟#پشتون_کوجینےدیں— Hammad__Azam (@Hammad___Azam) July 13, 2022
حیدرآبادمیں شرپسندزبردستی پشتونوں کےہوٹل بندکررہےجوافسوسناک اورقابل سخت مزمت ہے۔حکومتی رٹ کاایسافقدان،لعنت زرداری مافیاپہ۔پہلی بات کہ ہرالوکاپٹھااٹھ کرپشتون کوافغانی ڈیکلئیرکرتاہےجوقبیح فعل ہے۔دوسراپشتونوں نےاپنےعلاقوں میں ہمیشہ مسافروں کی حفاظت کی ہے،اس بدمعاشی سےمنافرت پھیلےگی۔ pic.twitter.com/QQhLnD1BfY
— Salar Sultanzai (@MeFixerr) July 13, 2022
Ye woh terrorist sindhi tha. Jis ko ye log educated aor social worker kehtay hay#پشتون_کوجینےدیں pic.twitter.com/c94EDfmJYC
— Apka yar (@yar_apka) July 14, 2022
Thank You #Neutral finally you people start playing dirty games. I dont knw why we still dont understand as a nation that we have always used by political parties 4 their dirty politics. We start standing against corruption again, thy r trying to divide and rule#پشتون_کوجینےدیں pic.twitter.com/uFPxUeAoPg
— Ishtiaq Mazari (@MazariIshtiaq) July 14, 2022
دوسری جانب سندھی قوم پرست بلال کاکا کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے پشتونوں کے خلاف ٹویٹر ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔
قوم پرست رہنما بلال کاکا کا پشتون ہوٹل مالک کو صوفی سندھ اور پلورل ازم کی تاریخ سمجھاتے ہوئے، انہیں سندھی بولی سیکھنے اور سندھ دھرتی سے محبت کا درس دینے کے دوران قتل کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہیں.
تشدد کا کوئی جواز کوئی عذر قابل قبول نہیں، قاتل کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے.— Ali Arqam (@AliArqam) July 14, 2022
سندھ صوفیوں کی سرزمین ہے
سندھ میں لعل قلندر ہے
سندھ میں سچل ساٸیں ہے
سندھ میں ہی شاھ بھٹاٸی ہے!چند اناصر پسند لوگ سندھ میں نفرت پھیلا رہےہیں اور سندھ کی صورتحال خراب کرنا چاہتے ہیں
پٹھان ہو پنجابی ہو یا بلوچ ہو ہم سب بھاٸی ہیں۔
باقی بلال کاکا کے قاتلوں سخت سزا دلاٸی جاٸے۔— Raza Dharejo PPP (Official) (@RazaDharijo) July 14, 2022
ادھر ترقی پسند رہنما دونوں طرف کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے سنجیدگی سے معاملات کو سلجھانے کی اپیل کی ہے۔
سندھ میں پیش آنے والے واقعے کو لسانی کی بجائے انسانی بنیادوں پر دیکھنا چاہیے۔ مقتول بلال کاکا کے ورثا کو انصاف ملنا چاہیے۔ اس کی آڑ میں عام پشتون کو نشانہ نہیں بننا چاہیے اور پشتون علاقوں میں عام سندھیوں کے ساتھ تذلیل بھی بند ہونی چاہیے۔
— Abid Mir (@AbidMir81) July 13, 2022
twitter.com/FaizullahSwati/status/1547269086018691072
معروف سیاسی و سماجی رہنما عمار علی جان نے کہا کہ 75 سالوں میں سندھیوں کا معاشی استحصال ہوا جبکہ پشتونوں کی زمیں کو ریاست نے کرائے کی جنگوں کے لئے استعمال کیا۔ لیکن افسوس کہ آج غریب سندھی اور غریب پشتون آپس میں لڑ رہے ہیں۔ پشتونوں اور سندھیوں کے لیڈران کانفرنس بلا کر معاملات کو حل کریں۔ محکوم قوموں کا اتحاد ہی امن کا ضامن ہے۔
75 سالوں میں سندھیوں کا معاشی استحصال ہوا جبکہ پشتونوں کی زمیں کو ریاست نے کرائے کی جنگوں کے لئے استعمال کیا۔ لیکن افسوس کہ آج غریب سندھی اور غریب پشتون آپس میں لڑ رہے ہیں۔
پشتونوں اور سندھیوں کے لیڈران کانفرنس بلا کر معاملات کو حل کریں۔ محکوم قوموں کا اتحاد ہی امن کا ضامن ہے۔
— Ammar Ali Jan (@ammaralijan) July 13, 2022