وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے ووٹنگ آج ہوگی، مسلم لیگ ن اور اتحادی جماعتوں نے حمزہ شہباز جبکہ پی ٹی آئی اور ق لیگ نے چوہدری پرویز الہیٰ کو امیدوار نامزد کیا ہے۔ وزیراعلی کے انتخاب کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس آج شام چار بجے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کی صدارت میں ہوگا، جس میں پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کرائی جائے گی۔
پی ٹی آئی کے 15ارکان اسمبلی کے حلف اٹھانے کے بعد ایوان میں تحریک انصاف کے کُل ممبران تعداد 178 ہوگئی ہے، جبکہ مسلم لیگ ق کے ارکین کی تعداد 10 ہے۔ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ق کے اراکین کو ملا کر تعداد 188 ہے جبکہ ایک رکن اسمبلی بیرون ملک میں ہیں۔
حکمران اتحاد اس بات کو یقینی بنانے کے لیے آخری حد تک کوششیں کر رہا ہے کہ اس کے پاس حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ کا عہدہ بچانے کے لیے نمبرز پورے ہوں جبکہ اپوزیشن اتحاد، اپنے ارکان اسمبلی کو کسی لالچ کے نتیجے میں منحرف ہونے سے بچانے کی کوشش میں مصروف ہے۔
ضمنی انتخابات میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کو عبرتناک شکست دینے کے بعد پنجاب اسمبلی میں واضح اکثریت کے ساتھ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد کو اپنے امیدوار چوہدری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کروانے میں کسی دشواری کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے۔
لیکن مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد کو آج کے انتخابات میں یہ کامیابی آسانی سے حاصل کرنے کی اجازت دینے کے موڈ میں نہیں ہیں کیونکہ اس کے نتائج پر ان کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔
یہی وجہ ہے کہک عمران خان نے جمعہ کو رات گئے ایک بیان میں تند و تیز لب و لہجہ اختیار کیا اور متنبہ کیا کہ اگر پنجاب میں عوام کا مینڈیٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی تو لوگوں کے غم و غصہ کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ ایک جیتی ہوئی اور بظاہر اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی پارٹی کے سربراہ کو آخر کیا پریشانی لاحق ہے کہ وہ اس قسم کے دہشت ناک بیان دینے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ حالانکہ ہفتہ کو اگر کسی بھی وجہ سے پرویز الہیٰ کی جگہ حمزہ شہباز ہی وزیر اعلیٰ منتخب ہو جاتے ہیں تو اسے جمہوریت کے کسی بھی اصول کے تحت ’عوام کا مینڈیٹ‘ چوری کرنا نہیں کہا جاسکتا۔
حکمران اتحاد کی شکست کا سب سے زیادہ پریشان کن نتیجہ ممکنہ طور پر وہ مشکلات ہوں گی جو وفاق میں شہباز شریف حکومت کے لیے پیدا ہوں گی، اپوزیشن اتحاد کی یہ کامیابی سابق وزیراعظم عمران خان کو نئے انتخابات کرانے کے لیے حکومت پر مزید دباؤ بڑھانے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔
پنجاب میں ضمنی انتخاب جیتنے کے بعد تحریک انصاف کو اطمینان سے 22 جولائی کا انتظار کرنا چاہیے تھا کیوں کہ اسے پنجاب اسمبلی میں اکثریت حاصل ہو چکی ہے۔ اس کی بجائے عمران خان سمیت پارٹی کی پوری قیادت نے ووٹوں کی خرید و فروخت اور لوگوں کو اٹھانے کے بارے میں بیانات کی بھرمار کردی۔
پرویز الہیٰ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کے ایک بیان پر توہین عدالت کا مقدمہ لے کر سپریم کورٹ جا پہنچے جہاں تحریک انصاف کے وکیل ان تین ارکان اسمبلی کے بیان حلفی پیش کرنے میں ناکام رہے جنہیں مبینہ طور پر وفاداری بدلنے کے لئے کثیر رقوم کی پیش کش کی گئی تھی۔ ایک تو یہ سمجھنا بے حد مشکل ہے کہ آخر تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی ہی کیوں برائے فروخت ہوتے ہیں؟ اگر پارٹی صاحب کردار لوگوں کو منتخب کرواتی ہے تو اسے پریشان ہونے کی بجائے مطمئن ہونا چاہیے۔
بہرحال آج کے انتخاب میں شاید ہی کسی ایدوینچر کی جگہ موجود ہو کیونکہ تحریک انصاف اور ق لیگ کے پاس اراکین کی تعداد مکمل ہے اور وہ حکومت بنانے کی مکمل حالت میں ہیں مگر یہاں یہ بات انتہائی اہم ہے کہ حکومت بنانے کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ملکی صورتحال کے پیش نظر حکومت کو کمزور کرنے کی بجائے مضبوط بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
جمعتہ المبارک، 22 جولائی 2022
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com