سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے وزارت سنبھالی تو کرنٹ اکاونٹ خسارے کا سامنا تھا۔ ان حالات میں آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا تھا۔دباو تھا کہ ٹیکس کی شرح بڑھائیں،،لیکن میں نے کوشش کی کہ براہ راست ٹیکس لگاوں۔سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا وزارت سنبھالی تو درآمدی ادائیگوں کے لیے ڈالرز نہیں تھے۔ ان حالات میں آئی ایم ایف کے پاس ہی جانا تھا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا کہنا تھا کہ تیل پر سبسڈی نا دیں۔ٹیکس کی شرح بڑھائیں،،لیکن میں نے کوشش کی کہ براہ راست ٹیکس لگاوں۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پچھلے سال تیس ارب کی برآمدات اور اسی ارب کی درآمدات تھیں۔اسی وجہ سے غیرضروری درآمدات پر پابندی عائد کی گئی ۔
ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں |
وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں |
مزید پڑھیں
Load/Hide Comments
- گوا نائٹ کلب آتشزدگی معاملہ: لوتھرا برادران کو خود سپردگی کی ہدایت، سپریم کورٹ نے برقرار رکھا ہائی کورٹ کا فیصلہ
- راہل گاندھی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرنے والی آر ایس ایس-بی جے پی کو دلت سماج جواب دے گا: راجندر پال گوتم
- ’مودی جی نے ایک ایسا منصوبہ لانچ کیا ہے جس میں عوام کے حصہ میں زہر اور اڈانی کے حصہ میں امرت آئے گا‘
- سعودی عرب سے نئی دہلی آ رہی ایئر انڈیا کی فلائٹ میں ٹشو پیپر پر لکھا ملا ’بم‘، احمد آباد میں ہوئی ایمرجنسی لینڈنگ
- سون ندی آبی تقسیم پر بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان معاہدہ طے پایا، سورین-سمراٹ نے ایم او یو پر کیا دستخط