آج کے ترکیہ کے اہم اخبارات کی اہم خبروں کے ساتھ حاضرِ خدمت ہیں ۔
روزنامہ ینی شفق :” آقار: فرانسیسی دودھ پلائے ہوئے سانپ ہی ڈسے جانے لگے”
فرانس کے دارالحکومت پیرس میں حملے کے بعد دہشت گرد تنظیم کے حامیوں کے مظاہروں کے حوالے سے وزیر قومی دفاع حلوصی اقار نے کہا ہے کہ فرانسیسیوں جنہوں نے سانپوں کو دودھ پلایا تھا اب وہی سانپ ان کو ڈسنے لگے ہیں۔ اب فرانسیسیوں کو ان دہشت گردوں کا اصلی چہرہ دیکھ لینا چاہیے۔
روزنامہ حریت: "چیلک اور قالن فرانس میں ہنگاموں سے متعلق ردِ عمل "
صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے اپنے ٹویٹر اکاو نٹ میں PKK کے دہشت گردوں کے پیرس کی سڑکوں میں ہنگامہ آرائی کرنے کے بارے میں لکھا ہے کہ کیا فرانس اب بھی خاموش رہے گا ؟” جبکہ جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چیلک نے کہا، "جو لوگ دہشت گرد تنظیموں کو پالتے ہیں پھر ان کو ایک دن خود دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔”
روزنامہ صباح : "قومی لیزر سسٹم ALKA کا کامیاب تجربہ "
راکت سان کی طرف سے مقامی طور پر تیار کردہ ALKA ڈائریکٹڈ انرجی ویپن سسٹم نے ٹیسٹ کے دوران اپنے ہدف کو پوری درستگی کے ساتھ تباہ کر دیا ہے ۔
روزنامہ خبر ترک : "اناج کی راہداری سے 15 ملین سے زاہد اناج کی برآمدات "
ٹرانسپورٹ اور انفراسٹرکچر کے وزیر عادل قارا اسماعیل اولو نے کہا ہے کہ یکم اگست سے 25 دسمبر تک کل 585 بحری جہاز یوکرین کی بندرگاہوں سے روانہ ہوئے، اور کہا، "کارگو کی کل مقدار 15 ملین 80 ہزار ٹن سے تجاوز کر گئی ہے۔
روزنامہ وطن: "2022 میں ایک لاکھ انیس ہزار 817 تارکین وطن کو ملک بدر کیا گیا”
وزارت داخلہ کے ڈائریکٹوریٹ آف مائیگریشن مینجمنٹ نے اعلان کیا کہ 2022 میں دو لاکھ 74 ہزار 311 غیر قانونی تارکین وطن کو ترکی میں داخل ہونے سے روکا گیا جبکہ ملک بدر کیے جانے والے غیر قانونی تارکین کی تعداد ایک لاکھ انیس ہزار 817 تک پہنچ گئی ہے۔