ناصرہ:اسرائیلی قابض اتھارٹی نے پچھلے سال کی آخری شام اپنے گھرکو خود گرانے کی اذیت سے گزرنے کے لئے ایک فلسطینی شہری کو 1948 کے مقبوضہ علاقے میں مجبور کیا ہے۔
مثنیٰ جابر نامی اس فلسطینی کو الطیبہ ٹائون میں اسرائیلی اتھارٹی نے حکام دیا کہ وہ اپنا گھر خود گرادے ورنہ اسرائیلی حکوم اس کا گھر گرانے کا اسی سے معاوضہ جرمانے کی صورت وصول کریں گے۔معلوم ہوا ہے کہ تین ماہ پہلے مثنیٰ جابر کو اسرائیلی حکام نے نوٹس دیا تھا کہ اس کا گھر اسرائیل کے بنائے گئے قانون کے مطابق اجازت لئے بغیر تعمیر شدہ ہے۔
جابر نے اسرائیلی قابض اتھارتی کو بتایا کہ اس نے اس مقصد کے لئے تعمیرات کرنے سے پہلے اجازت نامے کے لئے باقاعدہ درخواست دی تھی لیکن اسے اجازت نامہ دینے کے بجائے اتھارتی نے اپنی نسل پرستانہ پالیسی کی وجہ سے اس سے چکر لگوائے اجازت نہ دی لیکن اب جب گھر گرانے آگئے۔
