تعلیم بہت ضروری ہے یہاں تک پہلی وحی بھی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پڑھنے کے حوالے سے نازل ہوئی۔ اگر ہم دین اسلام کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ پتہ چلتا ہے کہ تعلیم کتنی ضروری ہے جنگ بدر میں جو پڑھے لکھے کفار قیدی بنے انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ مسلمانوں کو پڑھنا اور لکھنا سکھائیں۔ تعلیم حاصل کرو یہاں تک کہ تمہیں چین جانا پڑے۔ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہونے والے والا ملک ہے لیکن یہاں غربت کی وجہ سے بہت سے لوگ ناخواندہ ہیں جو پڑھ نہیں پاتے لکھ نہیں پاتے اور کچھ لوگ اس لئے بھی نہیں پڑھتے کہ انکا دل نہیں لگتا اور وہ یہ بہانہ کرکے پڑھائی چھوڑ دیتے ہیں۔ نوجوان کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اس لئے وہ بھی تعلیم سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں کہ نوکری تو ملنی نہیں تو کیا کریں مزید پڑھ کر اس لئے سلسلہ رک جاتا ہے ۔ بہت سے لوگ خواتین کی تعلیم کو برا سمجھتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تعلیم خواتین کے لئے اچھی نہیں ہیں جبکہ یہ بات بھی مفروضہ ہے۔ ایک خاتون ایک خاندان کو پروان چڑھاتی ہے وہ تعلیم یافتہ ہوگی تو سارا خاندان تعلیم یافتہ ہوگا۔
پر ہمارے ملک میں اکثر خواتین گھریلو کاموں اور مجبوریوں کی وجہ سے پڑھ نہیں پاتی۔ ہم ان سب چیزوں کا ذمہ دار حکومتوں اور معاشرے کو کہتے ہیں لیکن کیا ہم خود کچھ کررہے ہم تعلیم کو عام کرنے میں کیا حصہ ڈال رہے ہیں۔ ہم سب اگر ایک شخص کی تعلیم کا ذمہ خود لے لیں تو پاکستان میں شرح خواندگی اوپر آجائے۔ 24 جنوری کو دنیا بھر میں تعلیم کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔ ہم سب کو یہ کوشش کرنی چاہیے کہ تعلیم کو عام کرنے کی کوشش کریں دینی تعلیم بھی اور دنیاوی تعلیم بھی یہ دونوں ہی بہت ضروری ہیں۔ پڑھنے لکھنے کے علاوہ ہمیں نئ نسل کو ووکیشنل تکنیکی تعلیم بھی دینا چاہئے انکو ہنر کی طرف لے کر جانا چاہئے تاکہ وہ خود کفیل ہوجائیں۔
مرد ہو یا خواتین دونوں کا تعلیم حاصل کرنا ضروری ہے اس لئے تعلیم کو فروغ دیں کوئی بڑی عمر میں بھی پڑھنا چاہیے تو اسکی حوصلہ افزائی کریں۔ کم از کم اردو لکھنا بولنا حساب کتاب کرنا ہر شہری کو آنا چاہے بعد میں علاقائی اور عالمی زبانوں کی طرف بھی دیکھا جائے۔
صرف انگریزی لکھنا پڑھنا تعلیم نہیں ہے ہمیں ہماری قوم کو پہلے اردو میں تعلیم دینا ضروری ہے اس کے بعد دیگر شعبوں پر توجہ دی جائے۔ 24 جنوری آیا اور خاموشی سے چلا بھی گیا کسی نے یہ دن نہیں منایا تو دن کو چاہیے نا منائیں لیکن تعلیم کو تو پھیلائیں۔
224 ملین بچے اس وقت سکولز سے باہر ہیں اور 771 ملین بڑے پڑھ نہیں سکتے۔ بہت ضرورت ہے کہ تعلیم میں سرمایہ کاری کی جائے۔ ان تمام لوگوں تک تعلیم پہنچائی جائے جو اس کے حقدار ہیں۔