واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلینکن نے کہا ہے کہ ایران نے جوہری معاہدے پرواپسی کی موجودہ تجویزکومسترد کردیا ہے لیکن واشنگٹن اب بھی سمجھتا ہے کہ ایران کی جوہری فائل سے نمٹنے کا سب سے موثرطریق سفارت کاری ہے۔
بلینکن نے کہا کہ ایرانی نوجوان تہران کی حکومت کے سامنے اپنے بنیادی حقوق کا دفاع کررہے ہیں، اب امریکاکی توجہ ایرانی حکومت کے سڑکوں پراپنے لوگوں کو دبانے کے اقدامات پرمرکوزہے۔
بلینکن نے ایرانی عوام کے لیے امریکی حمایت پر روشنی ڈالتے ہوئیاس بات پرزوردیاکہ ایران میں حکومت کی تبدیلی’ کا فیصلہ بالآخرعوام پرمنحصر ہے جبکہ ایرانی حکومت اپنے لوگوں کواس بات پر قائل کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ امریکاحکومت کی تبدیلی چاہتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ایران یوکرین کے خلاف جنگ میں روس کی حمایت کرتاہے اور اسے ڈرونزاوردیگرہتھیارمہیا کرتا ہے، ایران جوہری ہتھیارحاصل نہ کرے، انھوں نیوضاحت کی کہ ایران کوجوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے میزپرتمام آپشن موجود ہیں۔
انھوں نے نشان دہی کی کہ امریکانے ایران میں جبرواستبدادکے تمام ذمہ داروں کو سزادی ہیاوروہ ایران کی ضرررساں سرگرمیوں میں خلل ڈالنے کے طریقوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہے۔
بلینکن نے کہا کہ امریکاکی فوجی کوششوں کا بنیادی مقصد جارحیت پسندوں کوروکنا ہے، مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کوکم کرنے کے لیے اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔
