اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، جس کے مطابق سرکاری خرچ پر کوئی امیدوار یا جماعت تشہیری مہم نہیں چلا سکے گی۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق امیدوار 23*8 انچ سائز سے بڑے پوسٹر استعمال نہیں کر سکیں گے جب کہ پمفلٹ کا سائز 6*9 انچ، بینرز کا سائز 3*9 فٹ مقرر کیا گیا ہے۔ کوئی امیدوار 3*2 فٹ سے بڑا پورٹریٹ استعمال نہیں کر سکے گا۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ اخلاق میں مزید بتایا گیا ہے کہ پمفلٹ، بینرز چھاپنے کرنے والے کا نام اور پتا پرنٹ کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ توقع ہے امیدوار بینرز، پوسٹرز پر آیات اور احادیث کا استعمال احترام کریں گے۔وال چاکنگ، پینا فلیکس، بل بورڈز پر مکمل پابندی ہوگی۔ کسی سرکاری عہدیدار کی تصاویر انتخابی مہم میں استعمال نہیں ہوسکتی۔
عوامی مقامات اور سرکاری عمارتوں پر پارٹی جھنڈے لگانے پر پابندی، مقامی انتظامیہ کے مختص مقامات پر ہی جلسے جلوس منعقد ہوسکیں گے۔ امیدوار ریلی کا روٹ مقامی انتظامیہ کے ساتھ طے کرنے کے پابند ہوں گے۔ مخالف رہنماؤں اور جماعتوں کے پتلے اور جھنڈے نذر آتش کرنے پر پابندی عائد ہوگی۔
تفرقہ بازی اور نفرت انگیز تقاریر پر پابندی عائد ہونے کے ساتھ امیدوار اور پولنگ ایجنٹ انتخابی عملے سے تعاون کے پابند ہوں گے۔پولنگ ایجنٹ کے پاس اتھارٹی لیٹر اور اصل شناختی کارڈ ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ امیدوار اور سیاسی جماعتیں ووٹرز کو ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں دے سکتے۔
ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں انتخابی کیمپ پولنگ اسٹیشن سے 400 میٹر دور ہوں گے۔ دیہی علاقوں میں انتخابی کیمپ 100 میٹر کی حد تک لگائے جا سکیں گے۔ امیدوار اور پولنگ ایجنٹ کے علاوہ کسی کو پولنگ اسٹیشن میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ پولنگ ایجنٹ کے لیے حلقے کا ووٹر ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
پولنگ ایجنٹس ووٹرز کو ترغیب نہیں دے سکیں گے۔ بیلٹ باکس سیل ہونے کے بعد پولنگ ایجنٹ ڈبے پر اپنی سیل بھی لگا سکتے ہیں۔ ووٹر پر اعتراض کی فیس 100 روپے ہوگی۔ نظریہ پاکستان کےمنافی کوئی فعل نہیں کیاجائےگا۔ ملکی آزادی سالمیت کیخلاف کوئی بات نہیں کی جائےگی۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق عدلیہ اورمسلح افواج سمیت دیگراداروں کیخلاف کوئی بات نہیں کی جائےگی۔ خلاف ورزی کرنےوالوں کیخلاف انتخابی ایکٹ کےتحت کارروائی ہوگی۔ قانون نافذکرنےوالےاداروں کیساتھ تعاون کیاجائے۔ انتخابی اخراجات کےاکاؤنٹس واضح کرنا ہوں گے جب کہ تمام ٹرانزیکشنزجی ایس ٹی رجسٹرڈفارم کےتحت ہوں گی۔
