اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے کہا ہے کہ فنانس بل اسی ہفتے آئے گا اور حکومت کوشش کرے گی کہ روپے کی گراوٹ کو روکا جائے،سابق وزیر خزانہ کے دور میں بجلی جتنی مہنگی ہونی چاہیے تھی ہو چکی ہے اب مزید کوئی اضافہ نہیں ہو گا۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہاکہ جس معاہدے پر ہم عمل کررہے ہیں وہ معاہدہ عمران خان نے اپریل 2019میں کیا تھا،،اس بار پاکستان کے دوستوں نے ساتھ نہیں دیا جس کے باعث ہمیں مجبوراً عالمی مالیاتی ادارے کے پاس جانا پڑا۔
خرم دستگیر نے کہا کہ 10دنوں میں آئی ایم ایف سے بہت سنجیدہ مذاکرات کئے ہیں، آئی ایم ایف سے بہت سے معاملات پر بات ہو چکی ہے، جس معاہدے پر ہم عمل کررہے ہیں وہ معاہدہ عمران خان نے اپریل 2019میں کیا تھا۔
انہوں نے مزید کہاکہ آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ 2019کی شرائط پر ہی معاہدہ ہو گا، فروری 2022کے معاہدے کے بھی عمران خان نے چیتھڑے اڑا دیئے ہیں، فروری 2022میں ہی عمران خان نے دو بڑی سبسڈیز دی ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ ہم نے روپے کو گرنے سے بچانے کی کوشش کی، ہمیں دوست ممالک سے سپورٹ حاصل نہیں ہوئی، ملک میں مہنگائی کا تعلق روپے کی قیمت گرنے سے ہے۔
