وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ترکیہ میں تباہ کن زلزلے سے جانی و مالی نقصان پر ہمیں بے حد افسوس ہے، ہم آخری متاثرہ شخص کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔
ترک میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلا ملک ہے جو ترکیہ میں 21 ویں صدی کے بدترین زلزلے کے بعد مدد کو پہنچا، انہوں نے زلزلے کے فوراً بعد صدر طیب ایردوان کو فون کر کے تعزیت کی اور مدد کی پیشکش کی۔ میں حکومتِ پاکستان اور پاکستانی عوام کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کرتا ہوں۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ ترکیہ کی جتنی بھی مدد کی جائے کم ہے، ہم اب تک 500 ٹن سے زائد امدادی اشیاء بھیج چکے ہیں، وزراء، ارکان پارلیمنٹ نے ایک ایک ماہ کی تنخواہ ترک بھائیوں کے لیے عطیہ کی ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترکیہ کی مدد کیلئے او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کیا جانا چاہیے، پاکستانی قوم مشکل گھڑی میں ترک عوام سے مکمل یکجہتی کا اظہار کرتی ہے، پاکستان پر جب بھی مشکل وقت آیا ترکیہ ہماری مدد کے لیے میدان میں اتر آیا، مجھے یقینِ کامل ہے ترک حکومت اور عوام قلیل مدت میں ان مشکلات سے نمٹنے میں سرخرو ہو جائینگے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان میں سردیوں کے خیمے تیار کرنے والی کمپنیوں کا ہنگامی اجلاس بلایا ہے، ہم موسم سرما کے لیے موزوں زیادہ سے زیادہ خیمے ترکیہ بھیجنا چاہتے ہیں، اعلیٰ معیار کے سردیوں کے خیمے جلد تیار کر کے بھیجیں گے،2010ء کے سیلاب کے بعد صدر اردوان نے دورہ کیا، لاکھوں ڈالر امداد دی، بین الاقوامی برادری کو ترکیہ میں بحالی اور تعمیر نو کے لیے کام کرنا چاہیے۔