وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ کوئی شک نہیں مہنگائی لوگوں کی برداشت سے باہر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کو بتا دی اہے کہ ضمنی بجٹ کا فیصلہ مجبوری میں لینا پڑا۔
ضمنی مالیاتی بل سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ معاہدہ ہم نے نہیں، پچھلی حکومت نے کیا تھا، انہوں نے سخت شرائط پر معاہدہ کیا اور پھر اس پر عمل نہیں کیا۔ اگر 170 ارب روپے کے ٹیکس لگا رہے ہیں تو دوسری جانب کوشش کی ہے کہ غریب عوام کیلیے مذاکرات کرلیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی چوری اور لائن لاسز اور بلوں کی عدم ادائیگی بڑے مسائل ہیں۔1450 ارب روپے وصول نہیں ہورہے تاہم کلیکشن کی اسپیڈ درست ہے۔ وزیراعظم حکومتی اخراجات کم کرنے کا پلان جلد پیش کریں گے۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ 360 ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے مختص کیے گئے تھے جن میں 40 ارب روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے، کفایت شعاری اور سادگی پانے کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات کرے گی۔ ہمارے قرضے 70 فیصد سے زائد بڑھ گئے ہیں، ہم نے 10 دن تک آئی ایم سے مذاکرت کیے، پاور سیکٹر میں لائن لاسز بجلی چوری سے 1400 ارب کا نقصان ہے، بجلی پیدا کرنے کی لاگت 3 ہزار ارب ہے۔
انہوں نے کہا کہ یقین ہے کہ بل پاس ہونے سے پیدا ہونے والی مالی مشکلات سے ملک کو نکالیں گے اور ملک جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ کینیڈا اور امریکا کے بزنس کلاس کے ٹکٹ پر ڈھائی لاکھ فکس چارج عائد ہوگا۔ یورپ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈیڑھ لاکھ اور مشرق وسطی کے لیے 75 ہزار فکس ٹیکس عائد کیا جائے گا جب کہ سگریٹ پر عائد ڈیوٹی فنانس بل میں اعلان کے مطابق ہی رہے گی۔
