ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

چشمہ شفاء ۔ 25

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ صحت کے جس موضوع پر بات کریں گے وہ ہے” کم سن بچوں کے جوتوں کا انتخاب کرتے وقت توجہ طلب پہلو”۔

 

چلنا سیکھنے والے بچے کی اورتھوپیڈک نشوونما کے ساتھ تعاون کے  لئے اس کے جوتوں کا درُست انتخاب ضروری ہوتا ہے۔ اس عمر میں بچے کا جسم تیزی سے تبدیل ہورہا ہوتا ہے اور جب بچہ چلنا شروع کرتا ہے تو اسے ایسے جوتوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ اس کے پاوں زمین پر درست شکل میں اور مضبوطی سے پڑیں۔

 

بچے کے لئے جوتوں کے انتخاب میں جلدی کرنے یا نہ کرنے کے فیصلے  کا انحصار اصل میں موسمیاتی اور خارجہ عوامل پر ہوتا ہے۔ اگر بچہ گرمیوں کے موسم میں چلنا شروع کرے تو کچھ عرصے تک اسے ننگے پاوں یا پھر صرف جرابوں کے ساتھ رکھنا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر بچہ سردیوں کے موسم میں چلنا شروع کرے تو اسے سردی سے بچانا ضروری ہوتا ہے تاہم جوتے کا مستقل استعمال کوئی مجبوری نہیں ہے۔ بچے کو صرف باہر نکلنے کے وقت ٹھنڈے سے بچانے کے لئے جوتے پہنانے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کے بچے کا جوتا کیسا ہونا چاہیے؟

 

1۔ جوتے کا ناپ

بچے کے لئے ٹھیک نمبر کا جوتا منتخب کرنے کے لئے بالکل بالغ افراد کی طرح  جوتا صبح کے وقت نہیں دوپہر کے بعد پاوں کے پانی جمع کرنے کے وقت خریدنا چاہیے۔

یہ نہیں بھُولنا چاہیے کہ بچے کا پاوں ہر سال دو نمبر بڑا ہوتا  ہے لہٰذا جوتا لیتے وقت دھیان رکھنا چاہیے کہ جوتا چھوٹا نہ ہو۔ اس کے علاوہ ہر تین ماہ میں ایک دفعہ دیکھ لینا چاہیے بچے کے پاوں کی نشوونما کے لئے جوتے میں ضروری جگہ موجود ہے یا نہیں۔

 

2۔پاوں  کی لمبائی چیک کرنا

جوتے کی نوک کو دبا پر اس کے خالی حصے اور پاوں کے انگوٹھے کے درمیان فاصلے کو چیک کرنا چاہیے۔ بچے کے پاوں کا انگوٹھا نہ تو جوتے کی نوک سے جُڑا ہوا ہونا چاہیے اور نہ ہی بہت دُور ۔ جوتے کی نوک سے پاوں کی نصف سینٹی میٹر تک دُوری بہترین شمار ہوتی  ہے۔ اپنے بچے کے لئے کم از کم نصف نمبر بڑا جوتا منتخب کریں تاکہ بچے کا پاوں آسانی سے پھلتا پھولتا رہے۔  یہ فاصلہ آسانی سے قدم اٹھانے میں بھی مددگار رہے گا۔آسان لفظوں میں یہ کہ  بچے کو جوتا پہنانے کے بعد اگر  ایڑھی کے حصے سے آپ کی چھوٹی انگلی جوتے میں داخل ہو رہی ہے تو یہ نمبر  آئیڈیل نمبرہے۔

 

3۔ جوتے کا کھُلا پن

بچے کو جاتا پہنانے کے بعد ہاتھ سے دبا کر جوتے کے اطراف کے حصّوں کو چیک کریں۔ جس طرح  لمبائی کی طرف پاوں کا جوتے کی نوک سے کچھ دور ہونا ضروری ہے اسی طرح کھُلے پن میں بھی جوتا بچے کے پاوں سے چِپکا ہوا نہیں ہونا چاہیے۔

 

4۔ ایڑھی چیک کریں

ایڑھی چیک کرنے کے لئے بچے کے ٹخنے سے پکڑ کر پاوں کو جوتے کے اندر اوپر نیچے کریں اگر بچے کا پاوں آسانی سے حرکت کر رہا ہے لیکن جوتا اُتر نہیں رہا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے بہترین جوتا منتخب کیا ہے۔ لیکن اگر پاوں جوتے کے اندر بالکل ہِل نہیں رہا یا پھر ہلتے وقت جوتے سے باہر نکل رہا ہے تو  سائز کے حوالے سے یہ جوتا اچھا انتخاب نہیں ہے۔

 

5۔ دیگر تفصیلات

رنگ اور مارکہ پر توجہ مرکوز کرنے کی بجائے ہمارا مقصد بچے کے پاوں کی نشوونما کو متاثر کئے بغیر آسانی سے حرکت میں مدد دینے والے جوتے کا انتخاب ہونا چاہیے۔ پاوں کے ناپ کے بعد جن چیزوں کو دھیان میں رکھنا چاہیے وہ کچھ اس طرح ہیں:

 

  • بچے کو ٹھوکر سے بچانے والے سیدھے اور پھسلن سے محفوظ رکھنے والے تلوے کا انتخاب کریں۔ تلوا بچے کے پاوں کے اتار چڑھاو کے مطابق اور بہت زیادہ سخت نہیں ہونا چاہیے۔ ایسا تلوا جو پاوں کے تلوے کے مطابق نہ ہو وہ ایک طرف تو بچے کی حرکت  کی قابلیت کو محدود کر دے گا دوسری طرف پورے دھڑ اور پٹھوں کے نظام  کو متاثر کرے گا۔جوتا خریدنے سے پہلے اسے ہاتھ میں لے کر اس کی لچک کو کنٹرول کریں۔ جوتے کو کم از کم 40 درجے تک مُڑ جانا چاہیے۔

 

  • جوتے کے مواد کو چیک کریں۔ جوتے کا بالائی حصہ نرم  چمڑے کا ہونا چاہیے۔ گرمیوں میں کاٹن یا پھر کینوس کے جوتے منتخب کئے جا سکتے ہیں۔ سخت چمڑے اور مصنوعی مٹیریل والے جوتوں سے پرہیز کریں۔ بچے کے پاوں کی ہوا بند کرنے والے پسینہ لانے والے پلاسٹک یا ربڑ کے جوتوں سے بھی دُور رہنا چاہیے۔ ایسے جوتے جن سے پاوں میں ہوا کا گزر ہوتا رہے بچے کے لئے مفید ہوں گے۔

 

  • جوتا ہلکا ہونا چاہیے۔ بچہ اوّلین قدم اٹھاتے ہوئے بار بار گِرتا ہے لہٰذا اگر جوتا بھاری ہو تو چلنے کا عمل اس کے لئے ضرورت سے زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

 

  • ایسے جوتے منتخب کریں جن کے بکل یا تسمے جوتے کو حسب پسند شکل میں کھُلا یا تنگ کرنے کے لئے موزوں ہوں۔

 

  • ان تمام خصوصیات کے علاوہ جس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے وہ یہ کہ اس عمر کے بچے ہر چیز کو منہ میں ڈالتے ہیں لہٰذا جوتے کے اوپر نگلی جا سکنے والی چیزیں مثلاً موتی وغیرہ نہیں ہونے چاہیئں۔

ان تمام خصائص سے ہم آہنگ  جوتا لینے کے باوجود جوتا بچے کو تنگ کر رہا ہو اور بچہ اسے پہن کر ناخوش اور بے اطمینان ہو رہا  ہو تواسے چھوڑ کر کسی دوسرے ڈیزائن کی طرف توجہ دینا ضروری ہو گا۔

 

 

 

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں