کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزمان کی سزاؤں کے خلاف اپیلوں کی نقول فریقین کو فراہم کرنے کاحکم دیتے ہوئے سماعت 28مارچ تک ملتوی کردی ہے ۔
مزید پڑھیں: سانحہ بلدیہ فیکٹری کو 9 سال ہوگئے ‘ 259 افراد زندہ جلے
سندھ ہائیکورٹ میں سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس زبیر چریا، عبدالرحمان بھولا اور دیگر کی سزاں اور بری ہونیوالوں کیخلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔ ایم کیو ایم رہنما رف صدیقی و دیگر ملزمان کے ساتھ عدالت میں پیش ہوئے۔ پراسیکیوٹر نے موقف دیا کہ ہمیں اپیلوں کی نقول فراہم کی جائیں۔
حسان صابر ایڈوکیٹ نے موقف دیتے ہوئے کہا کہ رف صدیقی، عمر حسن سمیت دیگر کے وکالت نامے داخلے داخل ہوچکے۔ 2 سال بعد اپیل آئی ہے، نقول فراہم کی جائے۔اپیل 7 روز کے بجائے 2 سال بعد کی گئی۔ عدالت نے اپیلوں کی نقول فریقین کو فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔
عدالت نے ملزمان کے وکلا کو حکم دیا کہ اپیلوں کی نقول پراسیکیوشن کو فراہم کی جائیں۔ عدالت نے سماعت 28 مارچ تک ملتوی کردی۔ ایم کیو ایم سابق سیکٹر انچارج عبد الرحمن عرف بھولا، زبیر چریا، شاہ رخ اور دیگر اپیل کنندگان میں شامل ہیں۔ ایم کیوایم رہنما روف صدیقی و دیگر کو بری کردیا گیا تھا۔
انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے زبیر چریا اور عبد الرحمان بھولا کو 264 بار سزا موت کا حکم سنایا تھا۔ عدالت نے فیکٹری کے 4 ملازمین کو آگ لگانے میں سہولتکاری کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ فیکٹری ملازمین میں شاہ رخ، فضل احمد، ارشد محمود اور علی محمد شامل ہیں۔
دائر اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ بھتہ مانگنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ ٹرائل کورٹ نے شواہد کا باریک بینی سے جائزہ نہیں لیا۔ سزا کالعدم قرار دیتے ہوئے ٹرائل کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد سے روکا جائے۔ پراسیکیوشن کے مطابق بلدیہ میں علی انٹرپرائز فیکٹری کو کیمیکل چھڑک کا آگ لگادی گئی تھی۔
واقع میں 264 خواتین اور فیکٹری کے ملازمین جاں بحق ہوگئے تھے۔ سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم رہنما روئف صدیقی نے کہا کہ سانحہ بلدیہ کیس میں 28 مارچ کو پھر طلبی ہے۔ آپ لوگ گواہ ہیں ایم کیو ایم کے تمام رہنما بیماریوں کے باوجود ہر پیشی پر آتے ہیں۔
۔ 7 برس سے عدالت کے پورے احترام کے ساتھ آتے ہیں۔ ہم بھی بلانا چاہیں تو ہزاروں لوگوں کو بلا سکتے ہیں مگر عدلیہ کا احترام کرتے ہیں۔ ہم مڈل کلاس لوگ اللہ کے بعد عدالتوں پر انحصار کرتے ہیں۔ مردم شماری میں بعض سنگین غلطیاں ہیں جن کو دیکھا جانا ضروری ہے۔
۔ 3 دن میں 3 کروڑ لوگوں کو گننا کیسے ممکن ہے۔ ہماری ٹیمیں اس پر کام کررہی ہیں قانونی پہلوئوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس شہر کو تمام حقوق دیئے جائیں۔ محرومی کا تسلسل غم و غصے میں بدلتا جارہا ہے ہمارے ہاتھ سے معاملات نکل گئے تو کوئی نہیں سنبھال سکے گا۔
حسان صابر ایڈوکیٹ نے کہا کہ سانحہ بلدیہ کیس میں اے ٹی سی نے روئف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو بری کیا تھا۔ 7 دن میں اپیل دائر ہونا ضروری ہے مگر دو سال بعد اپیل دائر کی گئی۔ دو پیشیوں سے ابھی تک اپیل کی کاپی بھی نہیں دی گئی۔ کون اس کے پیچھے ہے جو ایم کیو ایم کو مصروف رکھنا چاہتا ہے عدالتوں میں۔
ہم شہر کے مسائل کے حل کیلئے کام کرتے رہیں گے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ مردم شماری میں کئی خامیاں ہیں کثیرالمنزلہ عمارتوں میں یہ جانے کو تیار نہیں۔ کے الیکٹرک نے جو رہائشی میٹرز جاری کیے ہیں اس کی لسٹ دے دے کافی مدد مل جائے گی۔
