وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آئندہ ہفتے تک بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ اسٹاف لیول کے معاہدے پر دستخط ہونے کی امید ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ بیان میں وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے کہا کہ پاکستان کے مخالف عناصر ملک کے دیوالیہ ہونے کی جھوٹی افواہیں پھیلا رہے ہیں جو کہ نہ صرف مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہیں بلکہ حقیقت کے برعکس ہیں۔
اپنی ٹوئٹ میں اسحاق ڈار نے کہا کہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے بڑھ رہے ہیں اور تقریباً ہیں۔ ان کا حجم تمام بیرونی واجبات وقت پر ادا کرنے کے باوجود چار ہفتے پہلے کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
Anti-Pakistan elements are spreading malicious rumors that Pakistan may default. This is not only completely false but also belie the facts. SBP forex reserves have been increasing and are almost
US $ 1 billion higher than four weeks ago despite making all external… 1/2— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 2, 2023
وفاقی وزیر نے کہا کہ اقتصادی اشاریے آہستہ آہستہ درست سمت میں بڑھ رہے ہیں۔ غیر ملکی کمرشل بینکوں نے پاکستان کو سہولیات دینا شروع کر دی ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارے مذاکرات مکمل ہونے والے ہیں اور آئندہ ہفتے تک آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول کے معاہدے پر دستخط ہونے کی امید ہے۔
due payments on time. Foreign commercial banks have started extending facilities to Pakistan. Our negotiations with IMF are about to conclude and we expect to sign Staff Level Agreement with IMF by next week. All economic indicators are slowly moving in the right direction. 2/2
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) March 2, 2023
واضح رہے کہ پاکستان نے 31 جنوری سے 9 فروری تک اسلام آباد میں آئی ایم ایف کے وفد کے ساتھ 10 روز تک تفصیلی مذاکرات کیے تھے لیکندونوں کے مابین معاہدے طے نہ ہو سکا۔
تاہم آئی ایم ایف نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دونوں فریقین نے رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا ہے اور اسلام آباد میں زیر بحث پالیسیوں کے نفاذ کی تفصیلات کو حتمی شکل دینے کے لیے آنے والے دنوں میں ورچوئل مذاکرات جاری رہیں گے۔
اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت سال 2019 میں پاکستان کے ساتھ ہوئے آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) انتظامات کے نویں جائزے پر مرکوز تھی۔
آئی ایم ایف نے میکرو اکنامک استحکام کو محفوظ بنانے کی پالیسی پر عملدرآمد کے لیے وزیراعظم کے عزم کو سراہا اور بات کو چیت کو تعمیری قرار دیا تھا۔