ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

نیوزی لینڈ: اراکین پارلیمنٹ پرٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی عائد

The TikTok logo is seen on an iPhone 11 Pro max in this photo illustration in Warsaw, Poland on September 29, 2020. The TikTok app will be banned from US app stores from Sunday unless president Donald Trump approves a last-minute deal between US tech firm Oracle and TikTok owner ByteDance. US authorities say the Chinese video sharing app threaten national security and could pass on user data to China. (Photo by Jaap Arriens/NurPhoto via Getty Images)

ویلنگٹن: نیوزی لینڈ میں پارلیمنٹ کے ارکان پر ٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق نیوزی لینڈ کے اراکین پارلیمنٹ سرکاری ڈیوائسز پرسوشل میڈیا اپلیکیشن ٹک ٹاک استعمال نہیں کرسکیں گے،  حکام کا کہنا تھا کہ ٹک ٹاک پر پابندی سیکورٹی خدشات کے باعث عائد کی گئی ہے۔

نیوزی لینڈ کی پارلیمینٹری سروس کے چیف ایگزیکٹیو رافیل گونزالیز مونتیرو نے کہا کہ موجودہ پارلیمانی ماحول میں خطرات مول لینا قبول نہیں۔

ٹک ٹاک پر پابندی کا آغاز 31 مارچ سے ہوگا۔اس قبل کینیڈا، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا کی حکومتوں بھی سرکاری ڈیوائسز پرٹک ٹاک استعمال کرنے پر پابندی لگا چکی ہیں۔ ٹک ٹاک چینی کمپنی کی ملکیت ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں