ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اقوام متحدہ کی طالبان کے افغانستان میں خواتین کے کام پر پابندی پر شدید تنقید

اقوام متحدہ ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے افغانستان میں اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے والی خواتین پر پابندی پر تنقید کی ہے۔

ایک تحریری بیان میں ترک نے کہا کہ طالبان حکام کی جانب سے افغان خواتین پر اقوام متحدہ کے ساتھ کام کرنے پر پابندی کا فیصلہ "انتہائی قابل نفرت” ہے۔

انہوں نے کہا کہ  یہ فیصلہ افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق اور آزادیوں کو روکنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا آخری سلسلہ ہے۔ انہوں نے طالبان کے اس فیصلے پر شدید  تنقید کی ہے۔

ترک نے کہا کہ یہ قدم ایسے وقت اٹھایا گیا ہے  جب افغانستان میں 28.3 ملین لوگوں کو انسانی امداد کی اشد ضرورت  ہے۔

انہوں نے کہا  کہ افغانستان میں عدم دفاع کے شکار  لوگوں کی مدد کے لیے مل کر کام کرنا ضروری ہے، ترک نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات افغانستان کے عوام کو مزید مایوسی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ  اس فیصلے کے بعد  افغانستان کے لوگوں کے خلاف طالبان کے حکام کے منظم حملے جاری ہیں، ترک نے کہا، "طالبان قیادت کو افغانستان کے عوام اور ملک کے مستقبل کی خاطر خواتین کے حوالے سے ان مذموم پالیسیوں پر نظر ثانی  کرنے  کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان  نے خواتین کی تعلیم پر پابندی لگانے کے بعد  24 دسمبر 2022 کو غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) میں بھی  خواتین عملے کی ملازمت کو اگلے نوٹس تک معطل کر دیا۔ واضح رہے کہ خواتین اہلکاروں کی ملازمت ختم نہ کرنے والی این جی اوز کے لائسنس منسوخ کیے جانے سے بھی آگاہ کیا گیا ہے۔

اس اعلان کے بعد، ملک میں کچھ بین الاقوامی امدادی تنظیموں جیسے سیو دی چلڈرن، نارویجن ریفیوجی کونسل اور CARE نے اپنا کام روک دیا ہے۔

طالبان  کے اس فیصلے پر  یورپی یونین، اقوام متحدہ، امریکہ اور کئی ممالک نے اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کیا ہے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں