ترکیہ کی مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرک کار توگ پر ٹیکنالوجی کی دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
امریکی MIT ٹیکنالوجی ریویو نے توگ کو "ترکی کی مستقبل کی اقتصادی ترقی کی علامت” کے طور پر پیش کیا ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان کو دی جانےوالی پہلی توگ گاڑی کے بعد اس گاڑی میں بڑی گہری دلچسپی لی جا رہی ہے اور تقریباً 180 ہزار کے پری آرڈر اب تک موصول ہو چکے ہیں۔
مضمون نگار زئی ینگ کے مطابق ترکیہ اور چین الیکٹرک گاڑیوں کے حوالے سے ایک جیسے اقدامات کر رہے ہیں۔
دونوں ممالک کئی معاملات پر اقتصادی تعاون بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
زئی ینگ نے الیکٹرک گاڑیوں کی پیداوار میں پیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے اس کی بیٹری کی جانب توجہ مبذول کروائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے اس سلسلے میں ایک اہم قدم اٹھایا اور توگ اور چینی کمپنی کے ساتھ مل کر مشترکہ بیٹری فیکٹری قائم کی ہے۔
ینگ نے کہا کہ چین، جس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہیں، نے یورپ اور دیگر منڈیوں میں داخل ہونے کے لیے ترکیہ کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔