ایران بھر میں طالبات کو زہر دینے کے پراسرار واقعات کا سلسلہ جاری ہے جس نے کئی مہینوں سے ملک کو ہلا کر رکھا ہوا ہے، مقامی میڈیا کے مطابق، گزشتہ روز متعدد اسکولوں کی مزید درجنوں طالبات کو زہر دیا گیا۔
خبر کے مطابق،گزشتہ سال نومبر کے آخر سے ان واقعات کی لہر میں اضافہ ہوا ہے جہاں اسکولوں کی طالبات کو اسکولوں کے احاطے میں ناخوشگوار بدبو کے بعد بیہوشی، متلی، سانس لینے میں تکلیف اور دیگر علامات کا سامنا کرنا پڑا جن میں سے کچھ کو ہسپتال میں داخل کرکے علاج کرنا پڑا۔
ایران کےسرکاری ٹی وی نے بتایا کہ مقامی حکام کے مطابق تیل کی دولت سے مالا مال جنوب مغربی صوبے خوزستان کے شہر ہفتکل میں اسکول کی کم ازکم 60 لڑکیوں کو زہر دیا گیا۔
صوبائی طبی حکام نے بتایا کہ ادبیل کے شمال مغرب میں 5 اسکولوں کی متعدد طالبات کو زہر دیا گیا، متاثرہ لڑکیوں میں بے چینی، سانس میں تکلیف اور سر درد کی علامات دیکھی گئیں۔
بتایا گیا ہے کہ مغربی صوبے آذربائیجان کے دارالحکومت ارمیا کے قصبے میں اسکول کی متعدد لڑکیوں کو بیمار ہونے کی وجہ سے ہسپتال منتقل کیا گیا۔
سرکاری حکام کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک کے 31 صوبوں کے 25 مقامات کے 230 سے زائد اسکولوں میں 7 مارچ تک 5 ہزار سے زائد طالبات اسی طرح کے زہرسے متاثر ہو چکی ہیں۔
خیال رہے کہ مارچ کے اوائل میں ایران کے دارالحکومت تہران اور دیگر شہروں میں اسکول طالبات کو مبینہ طور پر زہر دیے جانے کے واقعات کے خلاف والدین نے شدید احتجاج کیا تھا