امریکہ نے کہا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان دفاعی تعاون میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔
وائٹ ہاوس قومی سکیورٹی کونسل کے اسٹریٹجک رابطہ افسر جان کربی نے آن لائن پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ روس کے ساتھ سب سے بڑا فوجی تعاون ایران کر رہا ہے۔ ایران، روس کو کامیکازی ڈرون فراہم کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔
کربی نے کہا ہے کہ ایران نے، اگست سے لے کر اب تک، روس کو 400 سے زائد ڈرون فراہم کئے اور ماسکو نے ان ڈرون طیاروں کی اکثریت کو یوکرین کے حساس انفراسٹرکچر کو ہدف بنانے کے لئے استعمال کیا ہے۔
کربی نے کہا ہے کہ یہ ڈرون زیادہ جدید ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی اہلکاروں کو ہدف بنانے کے لئے بھی استعمال کئے جا رہے ہیں۔ اگر ایران نے یہ طیارے روس کے ہاتھ فروخت کرنا جاری رکھا تو روس بھی انہیں یوکرین کے خلاف استعمال کرنا جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا ہے کہ روس بھی ایران کو میزائل فراہم کر رہا اور اس کے ساتھ برقی و فضائی دفاعی تعاون کر رہا ہے ۔ تہران نے ماسکو سے کروڑوں ڈالر مالیت کا فوجی ساز و سامان طلب کیا ہے۔
جان کربی نے کہا ہے کہ روس اور ایران کے درمیان شرکت داری یوکرین کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں بھی عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ آئندہ مہینے ہم روس اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی تجارت میں شریک عناصر کے خلاف اقدامات کریں گے۔ علاوہ ازیں حکومتوں اور اداروں کو بھی ایران کے ڈرون پروگرام کے خطرات سے آگاہ کرنے کے لئے مختلف اقدامات کریں گے۔