اسلام آباد: وفاقی وزیر نشریات و اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ 9 مئی کو فوجی تنصیبات، شہداکی یادگاروں پر حملہ بھی اس لئے کرایا تھا کیونکہ “وہ” مان نہیں رہے؟ “سیاسی ابوالہول” (Sphinx) کا دماغ ہٹلر کا جبکہ جسم گرگٹ کا ہے جو حالات کے ساتھ ساتھ رنگ ہی نہیں، آنکھیں اور بیان بھی بدلتا رہتا ہے ۔
سوشل میڈیا کی پیغام رساں ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ 9مئی کو فوجی تنصیبات، شہداکی یادگاروں پر حملہ بھی اس لئے کرایا تھا کیونکہ “وہ” مان نہیں رہے؟ “سیاسی ابوالہول” (Sphinx) کا دماغ ہٹلر کا جبکہ جسم گرگٹ کا ہے جو حالات کے ساتھ ساتھ رنگ ہی نہیں، آنکھیں اور بیان بھی بدلتا رہتا یے۔
9 مئی کو فوجی تنصیبات، شہداکی یادگاروں پر حملہ بھی اس لئے کرایا تھا کیونکہ "وہ" مان نہیں رہے؟ "سیاسی ابوالہول" (Sphinx) کا دماغ ہٹلر کا جبکہ جسم گرگٹ کا ہے جو حالات کے ساتھ ساتھ رنگ ہی نہیں، آنکھیں اور بیان بھی بدلتا رہتا یے۔ اسکے دماغ میں نہ آئین کی گنجائش ہے، نہ قانون کی، نہ… https://t.co/ZVE6hDdhxE
— Marriyum Aurangzeb (@Marriyum_A) June 10, 2023
ان کا کہنا تھا کہ اسکے دماغ میں نہ آئین کی گنجائش ہے، نہ قانون کی، نہ انسانیت اور نہ ہی اخلاقیات کی، صرف تکبر، انا، ضد اور مکاری بھری ہے جو کمرے میں تاحیات ایکسٹنشن کی آفر کرتا اور باہر میرجعفر کے نعرے لگاتاہے، جلسے میں امریکہ پر الزام لگاتا، پھر معاف مانگ کر امریکہ میں لابی کمپنیاں بناتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں سے بات سیاستدان اور جمہوری شخص کرتا ہے۔ اصل میں تلاش “کاندھے” اور “بیساکھی” کے سہارے کی ہے جو اب میسر نہیں۔ آر ٹی ایس کی معاونت کی التجا ہے، فارن فنڈنگ، ٹیریان، 190 ملیں پاؤنڈ، القادر ٹرسٹ جیسی چوریاں، ڈاکے اور جرائم سے نجات کا این آر او درکار ہے لیکن یہ طلسماتی سہولیات اب دستیاب نہیں- لیکن پوچھنا یہ تھا کہ آدھا حملہ کیسے ہوتا ہے۔