ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

یہ کہنا درست نہیں کہ سویلینز کا آرمی ایکٹ سے ٹرائل نہیں ہو سکتا، چیف جسٹس

اسلام آباد:فوجی عدالتوں میں آرمی ایکٹ کے تحت عام شہریوں کے مقدمات چلانے کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر درخواستوں پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس د ئیے کہ ملکی سلامتی کے معاملات براہ راست آرمی کے تحت آتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ  کیا طریقہ کار ہو گا جس کے تحت مقدمات ملٹری کورٹ کو بھیجوائے جائیں گے۔چیئرمین پی ٹی آئی، سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، معروف قانون دان اعتزاز احسن اور سول سائٹی کی جانب سے عام شہریوں مقدمات آرمی ایکٹ کے تحت فوجی عدالتوں میں چلانے کے خلاف درخواستوں پر سپریم کورٹ کے 7 رکنی بینچ نے سماعت کی۔

7 رکنی لارجر بینچ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے علاوہ جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس منصور شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیی آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل ہے۔

سماعت کے آغاز پر سول سوسائٹی کے وکیل فیصل صدیقی روسٹرم پر آگئے، انہوں نے تحریری دلائل بھی جمع کروائے، علاوہ ازیں ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے حکومت پنجاب کی جانب سے 9 مئی کے واقعات میں ملوث زیر حراست ملزمان کا ڈیٹا سپریم کورٹ میں جمع کروا دیا۔

رپورٹ میں فوج کی حراست موجود ملزمان، نابالغ بچوں، صحافیوں اور وکلا کا ڈیٹا شامل نہیں ہے، تاہم 9 مئی کے واقعات میں ملوث زیرحراست خواتین کا ڈیٹا جمع کروا دیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق 9 مئی کے واقعات میں 81 خواتین کو حراست میں لیا گیا، گرفتار خواتین میں سے 42 کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے، 9 مئی کے واقعات میں ملوث 39 خواتین اس وقت جوڈیشل ریمانڈ پر جیلوں میں قید ہیں۔

 جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ میں تو اسی میں مطمئن ہوں گا اگر اتنا ہی بینچ بیٹھے جتنے رکنی بینچ نے 21 ویں ترمیم کا فیصلہ دیا تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اکیسویں آئینی ترمیم کیس میں عدالت نے کہا تھا فوجی عدالتیں مخصوص حالات کے لیے ہیں، اس فیصلے میں جنگی حالات جیسے الفاظ استعمال کیے گئے، اس پر احمد حسین نے کہا کہ میرے علم میں نہیں کہ موجودہ حکومت کا موقف ہو کہ آج کل جنگی حالات ہیں۔دریں اثنا سماعت کے دوران نماز جمعہ کا وقفہ کردیا گیا، ڈیڑھ بجے نماز جمعہ کا وقفہ ختم ہونے کے بعد سماعت کا دوبارہ آغاز ہو ا تو جسٹس جواد ایس خواجہ کے وکیل خواجہ احمد حسین نے دلائل کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ فیئر ٹرائل ہر ایک کا بنیادی حق ہے جس سے محروم نہیں کیا جا سکتا، کورٹ مارشل کارروائی کے فیصلے آسانی سے میسر بھی نہیں ہوتے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صحافیوں سے متعلق کیا پالیسی ہے، اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ 9 مئی کے واقعات پر کسی صحافی کو حراست میں نہیں رکھا گیا، وفاقی حکومت کی صحافیوں کے خلاف کارروائی کی کوئی پالیسی نہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس وقت دو صوبوں میں نگران حکومت ہے، مہربانی کر کے صوبائی حکومتوں سے رابطہ کریں، صوبائی حکومتوں سے صحافیوں اور وکلا سے متعلق پالیسی کا پوچھیں، بینچ کے کچھ اراکین کو صحافیوں اور وکلا سے متعلق تحفظات ہیں۔بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت پیر کی صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کردی۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں