ماسکو :روسی صدر پیوٹن کا کہنا ہے کہ جنہوں نے ماسکو کے ساتھ بغاوت کی ہے وہ یہ جان لیں کہ اس کی سزا بھیانک انداز میں دی جائے گا ،وہ تمام لوگ جنہوں نے بغاوت کی تیاری کی وہ ناگزیر سزا بھگتیں گے،مسلح افواج اور دیگر سرکاری اداروں کو ضروری احکامات موصول ہو گئے ہیں۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ہفتے کے روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پریگوزن کے اقدامات سنگین غداری ہیں اور اس کا انجام ایک بھیانک انداز میں دیا جائے گا ،انہوں نے زور دیا کہ “جن لوگوں کو اس جرم میں گھسیٹا جا رہا ہے وہ ایک مہلک اور المناک، انوکھی غلطی نہ کریں، صرف صحیح انتخاب کریں مجرمانہ کارروائیوں میں حصہ لینا چھوڑ دیں۔”
پوتن نے بغاوت کی مذمت ایسے وقت میں کی جب روس یوکرین میں اپنی جنگ کے ساتھ “اپنے مستقبل کے لیے سب سے مشکل جنگ لڑ رہا تھا،مغرب کی پوری فوجی، اقتصادی اور معلوماتی مشین ہمارے خلاف برسرپیکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب ہمارے لوگوں کی قسمت کا فیصلہ ہو رہا ہے، تمام قوتوں کے اتحاد،استحکام اور ذمہ داری کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں مسلح بغاوت “روس کے لیے، اس کے عوام کے لیے ایک دھچکا ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جنہوں نے مسلح بغاوت کی سازش کی اور منظم کیا، جنہوں نے اپنے ساتھیوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے، روس کے ساتھ غداری کی۔ اور وہ اس کا جواب دیں گے ۔
واضح رہے کہ ویگنر پرائیویٹ ملٹری کنٹریکٹر کے مالک جس نے روس کے وزیر دفاع کو معزول کرنے کے لیے مسلح بغاوت کا مطالبہ کیا تھا، نے ہفتے کی صبح تصدیق کی کہ وہ اور اس کے فوجی یوکرین سے سرحد عبور کرنے کے بعد ایک اہم روسی شہر پہنچ گئے ہیں۔