ویب ڈیسک —
امریکہ میں سپریم کورٹ ممکنہ طور پر جمعے کو صدر جو بائیڈن کے طلبہ کے قرض معافی کے پروگرام اور ہم جنس پرستوں کے حقوق پر اثر انداز ہونے والے کیسز کے بارے میں بڑے فیصلوں کا اعلان کرے گی۔
ججوں کے گرمیوں کی تعطیلات پر جانے سے پہلے آج عدالت کا آخری دن ہے۔ اس ہفتے پہلے ہی ججوں نے افرمیٹو ایکشن، ووٹنگ کے حقوق اور مذہبی حقوق سمیت کئی امور پر اہم فیصلے جاری کیے ہیں۔
ایک نظر ڈالتے ہیں اس ہفتے ججوں کے جاری کیے گئے فیصلوں اور آنے والے باقی رہ جانے والے فیصلوں پر :
طلبہ کے لیے قرض
صدر جو بائیڈن کے طلبہ کے قرضوں کو ختم کرنے یا کم کرنے کے منصوبے کی قسمت کا فیصلہ سپریم کورٹ کےجج کریں گے۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق عدالت نے اس معاملے پر فروری میں دلائل سنے تھے تو ایسا نہیں لگا تھا کہ یہ منصوبہ بچ سکے گا۔ ممکن ہے کہ جج یہ فیصلہ کر یں کہ چیلنج کرنے والوں کے پاس مقدمہ کرنے کا حق نہیں ہے اور منصوبہ اب بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔
صدر بائیڈن نے ’فیڈرل اسٹوڈنٹ لون‘ میں ان لوگوں کے لیے10 ہزار ڈالرز کو ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی جن کی سالانہ آمدنی ایک لاکھ 25 ہزار ڈالر سے کم ہے یا ایسے گھرانے جو سالانہ ڈھائی لاکھ ڈالر سے کم کماتے ہیں۔
بائیڈن کالج میں داخلےکے لیے وفاقی’ پیل گرانٹس‘ حاصل کرنے والوں کے لیےمزید 10 ہزار ڈالر کے قرضوں کو بھی منسوخ کرنا چاہتے تھے۔
انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس پروگرام سے لاکھوں قرض لینے والے مستفید ہوں گے۔
اس سے قطع نظر کہ عدالت میں کیا ہوتا ہے، قرض کی ادائیگیاں جو تین سال قبل کرونا وائرس کی وبا کے آغاز سے رُکی ہوئی تھیں، اس موسم گرما میں دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔
ہم جنس پرستوں کے حقوق
ہم جنس پرستوں کے حقوق اور مذہبی حقوق کے تصادم پر بھی عدالت کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔
اس کیس میں کولوراڈو کی ایک گرافک آرٹسٹ شامل ہیں جو شادی کی ویب سائٹس ڈیزائن کرنے کا آغاز کرنا چاہتی ہیں لیکن انہیں ہم جنس جوڑوں کے لیے شادی کی ویب سائٹس بنانے پر اعتراض ہے۔
ریاستی قانون کے تحت کسی عوامی کاروبار کے لیے ضروری ہےکہ وہ تمام صارفین کو خدمات فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہو لیکن ڈیزائنر لوری اسمتھ کا کہنا ہے کہ یہ قانون ان کی اظہارِ رائے کی آزادی کے حقوق کے خلاف ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ان کے خلاف کسی فیصلے سے پینٹرز اور فوٹوگرافروں سے لے کر مصنفین اور موسیقاروں تک، فن کاروں کو ایسا کام کرنے پر مجبور کیا جائے گا جو ان کے عقائد کے خلاف ہو۔
ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اس مقدمے میں کامیابی مل جاتی ہیں تو کاروبار میں اپنے صارفین کے ساتھ امتیازی سلوک برتنے کا راستہ کھل جائے گا جس کے بعد کوئی کاروباری ادارہ سیاہ فام افراد، یہودی یا مسلمان صارفین، نسلی یا بین المذاہب جوڑوں یا تارکین وطن کو خدمات فراہم کرنے سے انکار کرسکے گا۔
دسمبر میں کیس میں دلائل کی سماعت کے دوران عدالت کی قدامت پسند اکثریت بظاہر سمتھ کے دلائل سے ہمدردی کا اظہار کرتی دکھائی دیتی تھی۔
‘افرمیٹو ایکشن’
امریکی سپریم کورٹ نے جمعرات کو ایک فیصلے کے تحت اعلیٰ امریکی تعلیمی اداروں میں نسلی تنوع کے اعتبار سے داخلے کے لیے جاری کیے گئے ‘افرمیٹو ایکشن’ کو مسترد کر دیا ہے ۔
اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ جس پالیسی کے تحت امریکی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے طلبہ کو نسلی بنیاد پر جو رعایت مل رہی تھی، وہ ختم کر دی گئی ہے اور اب اعلیٰ تعلیم کے امریکی اداروں کو اپنے طلبہ میں نسلی تنوع پیدا کرنے کے کچھ نئے طریقے ڈھونڈنے ہوں گے۔
‘افرمیٹو ایکشن’ وہ طریقۂ کار ہے جس کے ذریعے یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے درخواست دینے والے طلبہ کے درمیان نسل، رنگ اور قومیت کی بنا پرامتیاز کو روکا جاتا ہے اور کالجوں میں تنوع کے لیے نسلی بنیاد پر درخواستوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
اس کی موجودہ شکل کا استعمال پہلے پہل صدر کینیڈی کے ایگزیکٹو آرڈر کے تحت 1961 میں کیا گیا تھا۔
امریکی سپریم کورٹ میں ججوں کی اکثریت قدامت پسند
امریکی سپریم کورٹ میں قدامت پسند ججوں کی اکثریت ہے چنانچہ تین کے مقابلے میں چھ کی اکثریت کے افرمیٹو ایکشن فیصلے نے ہارورڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا میں جو امریکہ کے قدیم ترین تعلیمی ادارے ہیں، داخلوں کا یہ طریقہ روک دیا ہے۔
صدر جو بائیڈن نے فیصلے کے بارے میں وائٹ ہاؤس سے اپنے خطاب میں کہا کہ وہ اس فیصلے سے سختی سے اختلاف کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں اپنا یہ وعدہ ترک نہیں کرنا چاہیے کہ وہ طلبہ تنظیموں میں متنوع پسِ منظر اور ایسے تجربے کو یقینی بنائیں گے جو پورے امریکہ کی عکاسی کرے۔
فیصلہ سناتے ہوئے امریکی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جان رابرٹس نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک امریکہ میں جامعات نے غلط طور پر یہ طے کیے رکھا کہ کسی فرد کو اس کی بہترین صلاحیت یا تعلیم کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کی جلد کی رنگت کی بنیاد پر ترجیح دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری آئینی تاریخ اس بے انصافی کو برداشت نہیں کر سکتی۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر اپنے ردِ عمل میں یہ بھی کہا کہ امریکی یونیورسٹیوں میں افرمیٹو ایکشن پروگرام کے معنی یہ نہیں ہیں کہ جو طلبہ کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ انہیں نسل کی بنیاد پر معیار پر پورا اترنے والے طلبہ پر ترجیح دی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کالج نسلی تنوع سے مضبوط ہوتے ہیں چناں چہ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلے کو حرفِ آخر قرار نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا امریکہ ایک نظریہ ہے، امید اورامکانات کا۔ ہمیں آگے بڑھنے کے نئے راستے کی ضرورت ہے کیوں کہ امریکہ میں امتیاز اب بھی موجود ہے۔
یہ رپورٹ خبر رساں ادارے ’ ایسو سی ایٹڈ پریس‘ کی معلومات پر مبنی ہے۔