لاہور:سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی امیر العظیم نے کہا ہے کہ پاکستان میں روٹی، کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آنے والوں نے عوام سے روٹی، روزگار چھینا۔ ”قرض اتارو ملک سنوارو” کے اقتدار والوں نے جب اقتدار چھوڑا تو قوم کو معلوم ہوا کہ ملکی قرضہ تین گنا بڑھ گیا ہے۔
امیر العظیم نے کہاکہ گورنر ہاؤسز، ایوان صدر، وزیراعظم ہائوس کو یونیورسٹیوں میں تبدیل اور تبدیلی کے دعویداروں کے دور میں بھی کچھ نہ بدلا، پاکستان 1960ء کی دہائی میں چین اور ویت نام سے آگے تھا یہاں ٹریکٹر، گاڑیاں اور دیگر صنعتی پیداوار میں پاکستان خودکفیل تھا، لیکن 70 کی دہائی کے بعد یہاں سانپ اور سیڑھی کے جاری اس کھیل میں عام آدمی کے لیے سیاست، پارلیمنٹ کے دروازے بند جب کہ سانپوں کے لیے دروازے کھول دیے گئے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان کی 64فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ جماعت اسلامی آئی ٹی سیکٹر میں بچوں، بچیوں کو آئی ٹی کے میدان میں ٹریننگ دے کر ایسے روزگار کے سینٹرز بنائے گی کہ قوم کے بچے بچیاں گھر بیٹھ کر باعزت روزگار کما سکیں اس کے لیے ہم پوری دنیا سے یوتھ کو کام ڈھونڈ کر دیں گے۔
