ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

اسٹیٹ بینک کا شرح سود برقرار رکھنے کا اعلان، مہنگائی کم ہونے کی نوید

کراچی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود کو برقرار رکھنے کے اعلان کے ساتھ کہا گیا ہے کہ آئندہ مہینوں میں مہنگائی کم ہوگی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے مانیٹری پالسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ملک میں شرح سود کو اگلے دو مہینوں کے لیے 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں مئی میں 38 فی صد، جون میں 29.4 فی صد افراط زر رہی۔ 29.2 فی صد مالی سال 2022-23 کا اوسط افراط زر رہا۔ ختم ہونے والے سال کے لیے اسٹیٹ بینک نے 27 سے 29 فی صد افراط زر رہنے کی پیش گوئی کی تھی۔

مانیٹری پالیسی اعلامیے کے مطابق رواں مالی سال افراط زر کی شرح 20 سے 22 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ آنے والے مہینوں میں مہنگائی بتدریج کم ہوگی اور  دوسری ششماہی میں مہنگائی تیزی سے کم ہوگی۔ مہنگائی کی شرح کو 5 سے 7 فیصد کے اندر لانے کا ہدف برقرار ہے ۔ مالی سال 2025ء  کے اختتام تک مہنگائی 5 سے 7 فیصد پر آنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک پالیسی کے مطابق امپورٹ پر عائد تمام پابندیاں ہٹالی گئی ہیں۔  امپورٹ کے لیے مارجن کی شرط بھی ختم کردی گئی تھی۔ اس وقت امپورٹ آزاد ہے ۔ اب کسٹمر اور بینک پر منحصر ہے ۔ بینک اپنی کریڈٹ پالیسی اور رسک دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے میں آزاد ہیں۔ کسٹمر ایک سے دوسرے بینک پر جاسکتا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مزید بتایا کہ حکومت نے فنانسنگ کے لیے انفلوز انتظامات کیے ہیں۔ زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر میں بہتر اور جون میں مزید بہتر ہوں گے۔ آئندہ مالی سال معاشی ترقی کی شرح نمو مزید بہتر ہوگی۔ ایکسٹرنل سائڈ کے مسائل حل ہونے کی صورت میں معاشی نمو مستحکم ہوگئی اور تسلسل کے ساتھ جاری رہے گی۔ معاشی ترقی کی شرح نمو کو پائیدار بنانے پر توجہ مرکوز ہے۔پائیدار معاشی نمو کے لیے فسکل اور مانیٹری پالیسی اقدامات کیے جائیں گے۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں