ویب ڈیسک —
امریکہ میں کووڈ 19 کے مریضوں کےاس سال جولائی سے ہسپتال میں داخلوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ 29 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 9 ہزار سے زیادہ لوگ کووڈ 19 کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئے ۔ یہ تعداد اس سے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں لگ بھگ 12 فیصد زیادہ تھی ۔
ہسپتال کے نئے مریضوں کی تعداد گزشتہ تین موسم گرما میں بیماری کے عروج کے زمانے کی تعداد سے کہیں کم ہے ، جبکہ کووڈ سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا ۔
امریکہ میں محکمہ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ وہ ویسٹ واٹر(Wastewater) میں پائے جانے والے اجزا کے درجوں پر نظر رکھ رہے ہیں کیوں کہ طالبعلم اسکول واپس آرہے ہیں ۔ جون کے آخر سے امریکہ بھر کے ویسٹ واٹر میں وائرس کی شرح بڑھ گئی ہے۔
کووڈ کیسز میں اضافہ کتنا خطرناک ہے؟
29 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکہ میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ہسپتال میں داخلے کی شرح 9 اعشاریہ 05 تھی جو اس سے پچھلےہفتےکے مقابلے میں 12 فیصد کم تھی ۔
لیکن یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھی ۔ مثال کے طور پر جنوری کے شروع میں ہسپتال میں ہفتہ وار داخلوں کی تعداد 44000 ہزار تھی ، جب کہ جولائی کے آخر میں یہ تعداد 45 ہزار تھی یا جنوری میں اومیکرون میں اضافے کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔

جان ہاپکنز اسکول آف پبلک ہیلتھ کے متعدی بیماریوں اور وباء کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ ڈوڈی کا کہنا ہے کہ اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہورہا ہے لیکن یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جس میں خطرے کی گھنٹیاں بجادی جائیں ۔
ایسا ممکن ہے اس لیے ہو کہ متعدی امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے لیکن اس بارےمیں اعدادو شمار کا فقدان ہے ۔ وفاقی حکام نے صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال مئی میں ختم کر دی تھی اس لیے بیماریو ں پر کنٹرول اور بچاؤ کے مراکز اور بہت سی ریاستیں اب ٹسٹوں کے پازیٹیو ریزلٹس کا ریکارڈ نہیں رکھ رہی ہیں۔

اموات کی شرح کیا ہے ؟
جہاں تک کووڈ سے ہونے والی ہلاکتوں کا تعلق ہے تو ہر ہفتے 500 سے600 لوگ ہلاک ہوئے ۔اس موسم گرما میں اموات کی تعداد میں بظاہر کوئی اضافہ نہیں ہوا اگرچہ اس سے قبل مرنے والے مریضوں کی تعداد ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونے والوں سے زیادہ تھی ۔
وائرس پر نظر کیسے رکھی جارہی ہے ؟
امریکہ بھر کے سیوریج واٹر میں جون کے مہینے سے کووڈ 19 کے وائرس کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں وہ ویسٹ واٹر کے درجوں پر گہری نظر رکھیں گے کیوں کہ لوگ گرمیوں کی چھٹیوں کے سفر کے بعد واپس آرہے ہیں اور طالبعلم اسکول واپس جائیں گے ۔
امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سیینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ویسٹ واٹر سے متعلق ایک کانٹریکٹر ، اور Biobot Analytics کی ایک ماہر وبائیات کرسٹن ینگ کا کہنا ہے کہ گندے پانی میں کووڈ 19 کے درجوں میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے ۔ لیکن یہ ابھی تک کافی کم ہے ۔ اور گزشتہ موسم گرما سے 2ا عشاریہ 5 گنا کم ہے ۔
اومیکرون کی قسم "Eris ” میں اضافہ
صحت کے عالمی عہدے دار ایک نئے وائرس ، ای جی 5 کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے "Eris ” بھی کہا جاتا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ یہ اومیکرون کی ایک قسم ہے جو اپنی شکل بدل کر مزید خطرناک اور مزید متعدی ہو سکتا ہے لیکن اس وقت یہ صحت عامہ کے لیے دوسری قسموں سے زیادہ خطرناک نہیں دکھائی دیتا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 8 اگست تک "Eris ” پچاس سے زیادہ ملکوں میں پایا گیا ہے۔
ڈوڈی نے کہا کہ اگر ہم کوئی نئی قسم دیکھ رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمیں لا محالہ اس کے برے نتائج کا سامنا ہوگا۔

نئی ویکسین کب آرہی ہے؟
عہدے داراس موسم خزاں میں کووڈ 19 کی نئی ویکسینز دیکھنے کی توقع کرر ہے ہیں جو اومیکرون کی ، ایکس بی بی ۔1.5 نامی قسم کا علاج کر سکےگی۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لوگ کووڈ 19 کے موسم خزاں کے سالانہ شاٹس کب لگوانا شروع کریں گے ۔۔فائزر ، موڈرنا اور کم تعداد میں تیار ہونے والی نووا ویکس سب ایکس بی بی کی خوراکوں کو شامل کرر ہی ہیں لیکن ان کا استعمال اس وقت شروع ہوگا جب فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن ان میں سے ہر ایک کی منظوری دے گی اور پھرسی ڈی سی ان کے استعمال کی سفارش کرے گا۔

امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کی نئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مینڈے کوہن نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ لوگ کووڈ 19 کے شاٹس انہی فارمیسیز ، اور کام کی جگہوں پر لگوائیں گے جہاں اپنے فلو شاٹس لگواتے ہیں نہ کہ ویسے مخصوص مقامات پر جیسے پینڈیمک کے ابتدائی دور میں ہنگامی رد عمل کے سلسلے میں قائم کیے گئے تھے۔


ایسو سی ایٹد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ یہ ہمارا پہلا موسم سرما ہو گا جب ہم صحت کے بارے میں ہنگامی صورتحال سے نکل آئیں گے اور میرا خیال ہے کہ ہم سب یہ پہچان رہے ہیں کہ ہم کووڈ ، فلو اور آر ایس وی کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارے پاس ان سے نمٹنے کے اب اتنے زیادہ طریقے ہیں جتنے اس سے پہلے کبھی نہیں تھے ۔
( اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے ۔)
