English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

 امریکہ میں اومیکرون کی قسم "Eris ” میں اضافہ   ؟

امریکہ میں کووڈ کی نئی قسم ” ایرس” کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ صحت کے عالمی عہدے دار ایک نئے وائرس ، ای جی۔ 5 کی نشاندہی کر رہے ہیں جسے "Eris ” بھی کہا جاتا ہے ۔ ادارے نے کہا ہے کہ یہ اومیکرون کی ایک قسم ہے جو اپنی شکل بدل کر مزید خطرناک اور مزید متعدی ہو سکتی ہے لیکن اس وقت یہ صحت عامہ کے لیے دوسری قسموں سے زیادہ خطرناک نہیں دکھائی دیتی۔

ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ ای جی فائیو یا ایرس سے صحت عامہ کو بظاہرکووڈ کی دوسری اقسام سے زیادہ خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اس سے براہ راست منسلک مر ض کی شدت میں اضافے کے کوئی شواہد نہیں ہیں ۔

ایرس کتنی تیزی سے پھیل رہا ہے؟

کووڈ کی ایکس بی بی 1.5 قسم یا ایرس 2022 کےآخر میں نمودار ہوئی تھی اور 5 اگست تک وہ ابھی تک 10 فیصد سے زیادہ انفیکشنز کی زمہ دار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق 8 اگست تک ایرس پچاس سے زیادہ ملکوں میں پایا گیاہے۔

سی ڈی سی کے مطابق یہ امریکہ میں کووڈ 19 کی سب سے تیزی سے بڑھنے والی قسم ہے جس کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ کووڈ کے موجودہ 17 فیصد کیسز کا زمہ دار ہے ۔

رواں مہینےمیں ملک بھر کے سیوریج واٹر میں اس وائرس کی نشاندہی کی گئی تعداد اور کووڈ کے علاج کےلیے پیکسلو وڈ کے ہفتےوار تجویز کردہ نسخوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے ۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

نیا بوسٹر کب دستیاب ہو گا؟

فائرزر ، بائیونٹیک ، موڈیرنا اور نوواویکس ، سب نے اپنی ویکسینز کی نئی اقسام تیار کر لی ہیں جو اومیکرون کی نئی قسم ایکس بی بی ۔ 1.5 سے اور اس وقت موجود اس سے ملتی جلتی اقسام کےعلاج کےلیے مفید ہیں ۔

سی ڈی سی کی ڈائریکٹر مینڈی کوہن نے ایک حالیہ انٹر ویو میں کہا تھا کہ انہیں توقع ہے کہ نئی ویکسینز ستمبر کے تیسرے یا چوتھے ہفتے تک بڑے پیمانے پر دستیاب ہو ںگی ۔کوہن نے ایرس وائرس پر خصوصی طور پر بات نہیں کی لیکن کہا کہ ا س وقت ہم وائرسز میں جو تبدیلیاں دیکھ رہے ہیں ان سب کا علاج ہماری ویکسین سے ممکن ہے ۔ اس لیے ہماری تمام ویکسینز ابھی تک وائرس کی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کار گر ہیں ۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

امریکی ہسپتالوں میں کووڈ کےمریضوں کی شرح

امریکہ میں کووڈ 19 کے مریضوں کےاس سال جولائی سے ہسپتال میں داخلوں کی تعداد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے ۔ 29 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 9 ہزار سے زیادہ لوگ کووڈ 19 کے ساتھ ہسپتال میں داخل ہوئے ۔ یہ تعداد اس سے گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں لگ بھگ 12 فیصد زیادہ تھی ۔

ہسپتال کے نئے مریضوں کی تعداد گزشتہ تین موسم گرما میں بیماری کے عروج کے زمانے کی تعداد سے کہیں کم ہے ، جبکہ کووڈ سے ہونے والی اموات کی تعداد میں بھی اضافہ نہیں ہو رہا ۔

سی ڈی سی کےڈیٹا کے مطابق ، ہسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں کے داخلے کی شرح جون میں حالیہ کم ترین سطح سے 40 فیصد زیادہ تھی لیکن پھر بھی وہ جنوری 2022 میں اومیکرون کے پھوٹنے کے دوران کی اعلیٰ ترین سطح سے تقریباً 90 فیصد کم شرح تھی ۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

کووڈ کیسز میں اضافہ کتنا خطرناک ہے؟

29 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکہ میں کووڈ 19 کے مریضوں کے ہسپتال میں داخلے کی شرح 9 اعشاریہ 05 تھی جو اس سے پچھلےہفتےکے مقابلے میں 12 فیصد کم تھی ۔

لیکن یہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم تھی ۔ مثال کے طور پر جنوری کے شروع میں ہسپتال میں ہفتہ وار داخلوں کی تعداد 44000 ہزار تھی ، جب کہ جولائی کے آخر میں یہ تعداد 45 ہزار تھی یا جنوری میں اومیکرون میں اضافے کے دوران ایک لاکھ پچاس ہزار تھی۔

جان ہاپکنز اسکول آف پبلک ہیلتھ کے متعدی بیماریوں اور وباء کے ماہر ڈاکٹر ڈیوڈ ڈوڈی کا کہنا ہے کہ اس میں تھوڑا بہت اضافہ ہورہا ہے لیکن یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں ہے کہ جس میں خطرے کی گھنٹیاں بجادی جائیں ۔

ایسا ممکن ہے اس لیے ہو کہ متعدی امراض میں بھی اضافہ ہورہا ہے لیکن اس بارےمیں اعدادو شمار کا فقدان ہے ۔ وفاقی حکام نے صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال مئی میں ختم کر دی تھی اس لیے بیماریو ں پر کنٹرول اور بچاؤ کے مراکز اور بہت سی ریاستیں اب ٹسٹوں کے پازیٹیو ریزلٹس کا ریکارڈ نہیں رکھ رہی ہیں۔

فائل فوٹو

فائل فوٹو

اموات کی شرح کیا ہے ؟

جہاں تک کووڈ سے ہونے والی ہلاکتوں کا تعلق ہے تو ہر ہفتے 500 سے600 لوگ ہلاک ہوئے ۔اس موسم گرما میں اموات کی تعداد میں بظاہر کوئی اضافہ نہیں ہوا اگرچہ اس سے قبل مرنے والے مریضوں کی تعداد ہسپتال میں علاج کے لیے داخل ہونے والوں سے زیادہ تھی ۔

وائرس پر نظر کیسے رکھی جارہی ہے ؟

امریکہ بھر کے سیوریج واٹر میں جون کے مہینے سے کووڈ 19 کے وائرس کی شرح بڑھ رہی ہے ۔ صحت کے حکام نے کہا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں وہ ویسٹ واٹر کے درجوں پر گہری نظر رکھیں گے کیوں کہ لوگ گرمیوں کی چھٹیوں کے سفر کے بعد واپس آرہے ہیں اور طالبعلم اسکول واپس جائیں گے ۔

امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سیینٹر فار ڈیزیز کنٹرول کے ویسٹ واٹر سے متعلق ایک کانٹریکٹر ، اور Biobot Analytics کی ایک ماہر وبائیات کرسٹن ینگ کا کہنا ہے کہ گٹر کے پانی میں کووڈ 19 کے درجوں میں اضافہ دکھائی دے رہا ہے ۔ لیکن یہ ابھی تک کافی کم ہے ۔ اور گزشتہ موسم گرما سے 2ا عشاریہ 5 گنا کم ہے ۔

کیلی فورنیا میں 2021 میں یک نوجوان کو کووڈ 19 کا شاٹ لگ رہا ہے ، فائل فوٹو

کیلی فورنیا میں 2021 میں یک نوجوان کو کووڈ 19 کا شاٹ لگ رہا ہے ، فائل فوٹو

نئی ویکسینز کب آرہی ہیں ؟

عہدے داراس موسم خزاں میں کووڈ 19 کی نئی ویکسینز دیکھنے کی توقع کرر ہے ہیں جو اومیکرون کی ، ایکس بی بی ۔1.5 نامی قسم یا ایرس کا علاج کر سکےگی۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لوگ کووڈ 19 کے موسم خزاں کے سالانہ شاٹس کب لگوانا شروع کریں گے ۔

فائزر ، موڈرنا اور کم تعداد میں تیار ہونے والی نووا ویکس سب کمپنیاں ایکس بی بی کی خوراکوں کو شامل کرر ہی ہیں لیکن ان کا استعمال اس وقت شروع ہوگا جب فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈ منسٹریشن ان میں سے ہر ایک کی منظوری دے گی اور پھرسی ڈی سی ان کے استعمال کی سفارش کرے گا۔


 لونگ کووڈ پر ریسرچ کا ایک مرکز، فائل فوٹو

 لونگ کووڈ پر ریسرچ کا ایک مرکز، فائل فوٹو

امریکہ کے بیماریوں کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کی نئی ڈائریکٹر ڈاکٹر مینڈے کوہن نے کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ لوگ کووڈ 19 کے شاٹس انہی فارمیسیز ، اور کام کی جگہوں پر لگوائیں گے جہاں اپنے فلو شاٹس لگواتے ہیں نہ کہ ویسے مخصوص مقامات پر جیسے پینڈیمک کے ابتدائی دور میں ہنگامی رد عمل کے سلسلے میں قائم کیے گئے تھے۔

ایسو سی ایٹد پریس سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ یہ ہمارا پہلا موسم سرما ہو گا جب ہم صحت کے بارے میں ہنگامی صورتحال سے نکل آئیں گے اور میرا خیال ہے کہ ہم سب یہ پہچان رہے ہیں کہ ہم کووڈ ، فلو اور آر ایس وی کے ساتھ رہ رہے ہیں ۔ لیکن اچھی خبر یہ ہے کہ ہمارے پاس ان سے نمٹنے کے اب اتنے زیادہ طریقے ہیں جتنے اس سے پہلے کبھی نہیں تھے

( اس رپورٹ کا مواد اے پی سے لیا گیا ہے ۔)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے