اسلام آباد: ورلڈ بینک (ڈبلیو بی) نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی اصل صلاحیت سے کم ٹیکس وصول کر رہا ہے، پاکستان قرضوں کے بوجھ سے نجات کے لیے تمام ٹیکس چھوٹ بند کرے ۔
ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پاکستان ٹیکس وصولی میں 737 ارب روپے کی کمی کا شکار ہے اور اسلام آباد پر زور دیا کہ وہ قرضوں کے بوجھ سے نجات کے لیے تمام ٹیکس چھوٹ بند کرے۔
رپورٹ میں کہا گیا پاکستان کو تجویز دی ہے کہ وہ اضافی آمدنی پیدا کرنے کے لیے زراعت، جائیدادوں اور خوردہ کاروبار سے ٹیکس آمدنی میں اضافہ کرے۔ بین الاقوامی قرض دہندہ نے کہا کہ صوبائی دائرہ اختیار میں دو بڑے شعبوں جن میں رئیل اسٹیٹ اور زراعت میں زیادہ تر غیر ٹیکس شدہ دولت تھی، جس پر صوبائی حکومتوں کو ٹیکس لگانا چاہیے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر بھی پاکستان میں اپنی اصل صلاحیت سے 402 ارب روپے کا ٹیکس ادا کر رہا ہے۔
بینک نے یہ بھی سفارش کی کہ پاکستان کو اپنے انکم ٹیکس کے ڈھانچے کو آسان بنانا چاہیے جس میں اسے تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد دونوں کے لیے سیدھ میں لانا چاہیے اور ترقی کو یقینی بنانا چاہیے۔
سیکٹر سے 268 ارب روپے تک ٹیکس وصول کرنے کے لیے سگریٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔
اس سے قبل ورلڈ بینک نے پیسے بچانے کے لیے مختلف سبسڈیز میں کمی کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی (ٹی ڈی ایس) سے 167 ارب روپے بچائے جا سکتے ہیں۔