کراچی: معروف نیورولوجسٹ و ماہر امراض مرگی اورایپی لیپسی فائونڈیشن پاکستان کی صدر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا ہے کہ گزشتہ 10سالوں میں خودکشی کی شرح 20 گنا بڑھ گئی ہے جس کی وجہ دنیا کے تیزی سے بدلتے ہوئے سیاسی و معاشی حالات،جنگیں،کسمپرسی کی زندگی،غربت، ہوشربامہنگائی اور لاقانونیت ہے تو دوسری طرف بڑھتے ہوئے ذہنی امراض بھی ہیں۔
”ورلڈ مینٹل ہیلتھ ڈے ” کے موقع پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے کہا کہ بڑھتے ہوئے ذہنی امراض کی دیگر اہم وجوہات میرٹ کا قتل، حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر شہریوں کا عدم اعتماد، سوشل میڈیا کا بے استعمال، فیملی اور سوشل سسٹم کا کمزور ہونابھی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہرطرف سے مایوس شخص جب اپنے دل کی بات کسی سے شیئر نہیں کرپاتا ہے تو وہ اپنی زندگی سے ہی مایوس ہونا شروع ہوجاتا ہے، ڈاکٹر عافیہ کا کیس بھی اس کی ایک مثال ہے۔
ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کا کہنا تھا کہ بے گناہی کے باوجود حکومت اور ریاستی اداروں کا ڈاکٹر عافیہ کو تحفظ نہ دینا اور اسے رہا نہ کرانا قوم کی بیٹیوں کے لیے حکومت اور اداروں پر عدم اعتماد کا باعث بن سکتا ہے۔
اُنکا کا کہنا تھا کہ بچوں میں ذہنی امراض بڑھ رہے ہیں جو کہ زیادہ تشویشناک ہے۔ چھوٹے بچوں کو موبائل فون اور ٹیلی ویژن پر کارٹون فلموں کے ذریعے بہلایا جاتا ہے جس کے نتیجے میں بچے لوگوں سے الگ تھلگ رہنے (Social isolation) کا شکار ہو رہے ہیں جسے سماجی تنہائی (Virtual Autism) کہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اداسی، ڈپریشن، کام میں دل نہیں لگنا، بات بات پر چڑچڑاہت، جلد ی غصہ میں آجانے کی کیفیت سے دوچار ہورہا ہے تو اسے یا اس کے اہلخانہ کو سمجھ جانا چاہئے کہ ایسے شخص کو فوراََمعالج کی مدد لینے کی ضرورت ہے ورنہ ایسا شخص خودکشی کی طرف مائل ہو سکتا ہے۔