وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر بائیڈن کے اس دعوے اور الزام کی تردید کی ہے جس میں جو بائیڈن نے حما س پر الزام تھا کہ میں نے بچوں کے سر قلم کیے جانے کی تصاویر دیکھی ہیں ۔
امریکی صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ الزام اسرائیلی حکام کے دعوؤں پر مبنی تھے۔
دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ بین الاقوامی اخبارات کی جانب سے بچوں کے قتل کے الزامات سے دستبرداری نے صہیونی بیانیے کی قلعی کھول دی ہے اور ان کے جھوٹ و فریب کا پردہ چاک کردیا ہے ۔
مغربی میڈیا میں حقائق کے طور پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کی روشنی میں،ہم مغربی میڈیا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فاشسٹ قبضے اور اس کے ذرائع سے حاصل ہونے والی غلط معلومات اور مواد کی چھان بین کرلیا کرے۔
وائٹ ہاؤس نے امریکی صدر جو بائیڈن کے اس دعوے کو واپس لے لیا ہے کہ انہوں نے اسرائیل پر حماس کے مہلک حملے کے بعد سر قلم کیے گئے بچوں کی تصاویر دیکھی تھیں ۔
واشنگٹن پوسٹ کے سوالوں کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ صدر کے تبصرے اسرائیلی حکومت کے دعوؤں اور خبروں پر مبنی ہیں۔”وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے بعد میں واضح کیا کہ امریکی حکام اور صدر نے آزادانہ طور پر ایسی تصاویر نہیں دیکھی ہیں اور نہ ہی اس کی تصدیق کی ہے ۔
واضح رہے کہ حماس اول دن ہی سے ایسے الزامات کی تردید کرتی رہی ہے کہ اس نے خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، “صدر نے نیتن یاہو کے ترجمان کے دعوؤں اور اسرائیل سے میڈیا رپورٹس پر مبینہ مظالم کے بارے میں اپنے تبصرے کی بنیاد رکھی۔”
بائیڈن کے دعوے مغربی اخبارات کے صفحہ اول پر نمایاں تھے، اور بعض حلقوں میں بچوں کے سر قلم کرنے کی رپورٹس کو انتقامی حملوں اور غزہ میں شہریوں کی اجتماعی سزا کے جواز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔