کراچی: صہیونی ریاست اسرائیل کی ارض مقدس خصوصاً غزہ پر جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی کے تحت کل کراچی بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوں گے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق کی اپیل پر جمعہ 20 اکتوبر کو ملک بھر کی طرح شہر قائد میں بھی مساجد کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ اس دوران فلسطین ریلیف فنڈ جمع کیا جائے گا اورریلیاں بھی نکالی جائیں گی۔
فلسطینی مسلمانوں پر مظالم اورغزہ کے محاصرے کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک کروڑ پٹیشن کے سلسلے میں عوام سے بڑے پیمانے پر رابطہ کیا جائے گا اور گھر گھر جاکر بھی دستخط کروائے جائیں گے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن بعد نماز جمعہ مسجد خضریٰ صدر میں ہونے والے مظاہرے سے خطاب کریں گے۔دریں اثنا امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ اہل غزہ اور فلسطین کے مسلمانوں سے اظہاریکجہتی کے لیے مظاہروں اور ریلیوں میں بھرپور شرکت کریں، نہتے و مظلوم فلسطینی ماؤں، بہنوں،بیٹیوں،بزرگوں اور بچوں کے لیے فلسطین ریلیف فنڈ زیادہ سے زیادہ تعداد میں عطیات جمع کرائیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے جماعت اسلامی کے کارکنوں اور ذمے داران کو ہدایات کی کہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کی مذمت اور یکجہتی فلسطین کے لیے جاری تحریک کو مزید تیز کریں اور زیادہ سے زیادہ تعداد میں شہریوں سے رابطے کریں۔
انہوں نے کہاکہ اسرائیل کے خلاف ہمارا واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے ہم حماس کی تحریک مزاحمت کی حمایت اور دوریاستی حل کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کرتے۔حکومت پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ ریاست کے اصولی اور واضح مؤقف کے مطابق عالمی و سفارتی سطح پر بھی اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہاکہ ایک جانب غزہ کے شہری قرآن کی آیات کی تلاوت کے ساتھ اپنے بچوں کو قبروں میں اتاررہے ہیں جب کہ دوسری جانب ظالم و دہشت گرد اسرائیل کے خلاف استقامت کا پہاڑ بنے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی جدوجہد کو سلام کرتے ہیں۔ امریکا اس لیے اسرائیل کا ساتھ دے رہا ہے کیوں کہ وہ خود ایک دہشت گرد ریا ست ہے جو 2 کروڑ ریڈ انڈین کی لاشوں پر قائم ہواہے اور اس نے عراق،ویتنام،افغانستان میں لاکھوں انسانوں کو قتل کیا ہے اور ہمیشہ دہشت گرد ریاستوں کی پشت پناہی کی ہے۔
انہوں نے کہاکہ 1917ء میں برطانیہ نے پوری دنیا سے صیہونیوں کو جمع کر کے فلسطین میں بسایا اور کہا کہ ہم یہودیوں کو حق دیتے ہیں کہ وہ اپنی ایک ریاست قائم کریں۔ پہلے اسرائیل کو لیگ آف نیشن سے اور بعد میں اقوام متحدہ سے بھی منظور کروایا گیا۔