مقبوضہ بیت المقدس: صہیونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطین پر حملوں خصوصاً غزہ پر بم باری کے نتیجے روزانہ تقریباً 136 فلسطینی بچے جام شہادت نوش کررہے ہیں۔
خبر رساں اداروں کے مطابق گزشتہ 33 روز سے جاری وحشیانہ حملوں میں فلسطینی شہدا کی تعداد 10 ہزار سے متجاوز ہو گئی ہے جس میں بہت بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق عالمی تنازعات میں بچوں کی شرح اموات بڑھتی جا رہی ہے۔
ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں ہونے والی اسرائیلی کارروائیوں میں کم و بیش 136 بچے روزانہ شہید ہو رہے ہیں۔ فلسطینی شہدا کی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ دنیا کے کسی بھی تنازع میں ہونے والی اموات سے زیادہ تعداد ہے۔
رپورٹ کے مطابق شام میں ہونے والی جنگ جو تقریباً 11 برس پر محیط تھی، میں تقریباً تین بچے روزانہ اور مجموعی طور پر 12 ہزار بچے شہید ہوئے۔ اسی طرح افغانستان کے 12 سالہ جنگی دور میں روزانہ تقریباً 2 اور مجموعی طور پر 8 ہزار 99 بچے شہید ہوئے۔ یمن میں ساڑھے 7 سال تک ہونے والی جنگ میں2 دنوں میں 3 بچے اور مجموعی طور پر 3700 بچے شہید ہوئے۔عراق کی 14 سالہ جنگ میں 2 روز میں 1 بچہ اور مجموعی 3100 بچے اور یوکرین میں 21 ماہ کی جنگ میں 2 روز میں 1 بچہ اور مجموعی 510 بچے مارےگئے ہیں۔
ڈیفنس فار چلڈرن انٹرنیشنل فلسطین نامی این جی او نے بتایا کہ 1967 سے 7 اکتوبر 2023 سے قبل مغربی کنارے اور غزہ میں اسرائیل کے ہاتھوں جتنے بچے شہید ہوئے، اس 2 گنا زیادہ بچے ایک ماہ کے دوران شہید ہوچکے ہیں۔ این جی او کے مطابق 1350 بچے ابھی بھی عمارات کے ملبے تلے موجود ہیں اور ان میں بیشتر ممکنہ طور پر شہید ہو چکے ہیں۔