برلن :جرمنی ان افغان تارکین وطن کو واپس افغانستان بھیجنے پر غور کر رہا ہے جو ملکی سکیورٹی کے لیے خطرہ ہیں۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن وزیر داخلہ نینسی فیزر کا کہنا ہے کہ پولیس افسر کے قتل کے بعد سے ہم نے ہر غیر ملکی پر گہری نظر رکھی ہوئی ہے، جو لوگ جرمنی کی سلامتی کے لیے ممکنہ خطرہ ہیں، انہیں فوری طور پر ملک بدر کیا جانا چاہیے، ہمیں افغانستان اور شام کے لوگوں کا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا امکان ہے، اسی لیے فیصلہ کیا ہے کہ افغانستان اور شام کے لوگوں کو اُن کے وطن واپس بھیج دیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہی دوسرے ممالک کے لوگوں کو بھی ملک بدری کے معاملے کو تیز کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یادرہے جرمنی کے شہر مانہیم میں ایک اسلام مخالف تقریب کے دوران افغانستان سے تعلق رکھنے والے 25 سالہ نوجوان کے چاقو سے حملے میں چھ افراد شدید زخمی ہوئے تھے اور ایک پولیس اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا تھا۔حملہ آور کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا، جو جرمنی میں غیر قانونی طور پر مقیم نہیں تھا، جب سے جرمن وزارت داخلہ کی جانب سے ہجرت پر مزید سخت لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کیا جارہاہے۔
