ٹیلی گرام کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

القمرآن لائن کے ٹیلی گرام گروپ میں شامل ہوں اور تازہ ترین اپ ڈیٹس موبائل پر حاصل کریں

سینیٹری ورکرز کے مسائل حل نہ کرنے کیخلاف عدالت جانے کا اعلان

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے ملک کے چاروں صوبوں کے سینیٹری ورکرز کو کام کے دوران فل کٹ دینے، تنخواہوں میں اضافہ، حفاظتی انتظامات سمیت مذہب اور نسب کی بنیاد پر امتیازی سلوک جیسے بنیادی مسائل حل نہ کرنے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سال 2022ء سے سال 2024ء تک سندھ کے مختلف شہروں میں گٹروں کی صفائی کے دوران فل کٹ نہ دینے کے سبب دم گھٹنے سے ہلاک ہونے والے 11 سینیٹری ورکرز کے قتل کا مقدمہ سیکرٹری بلدیات کے خلاف درج کیا جائے۔ یہ مطالبہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مرکزی صدر اسد اقبال بٹ نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قاضی خضر حیات، ریجنل کوآرڈینیٹر حیدرآباد غفرانہ آرائیں، سہیل سانگی ،سلیم جروار اور خوشحالداس سمیت دیگر بھی موجو دتھے۔ انہوں نے کہا کہ ایچ آر سی پی کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے کے مطابق سینیٹری ورکرز کو کسی بھی طرح کی بنیادی سہولیات میسر نہیں ہیں اور سال 2022ء سے 2024ء تک سندھ کے شہر کراچی، حیدرآباد اور ٹنڈو محمد خان میں 11 سینیٹری ورکرز گٹروں کی صفائی کے دوران حفاظتی انتظامات نہ ہونے اور فل کٹ نہ ملنے کے سبب اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹری ورکرز کو صحت کی بنیادی سہولیات دینے سمیت روزانہ اُجرت پر رکھنے کے بجائے انہیں مستقل کیا جائے جبکہ سندھ حکومت سندھ میں قائم مختلف نیم سرکاری اداروں اور پرائیویٹ کمپنیوں کو بھی سینیٹری ورکرز کو مستقل بنیادوں پر روزگار دینے کا پابند بنایا جائے۔ انسانی حقوق کمیشن کے رہنمائوںنے کہا کہ ایچ آر سی پی کی سروے رپورٹ میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سینیٹری ورکرز اپنے کام کی نوعیت کے باعث صحت کے شدید خطرات سے دوچار ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں صفائی کا زیادہ تر کام پرانے طریقوںاور ہاتھ سے انجام دیا جاتا ہے جس کے باعث سینیٹری ورکرز زہریلی گیسوں، ٹھوس فضلہ اور فضلاتی کیچڑ کی ضد میں رہتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف مارچ اور اپریل 2024ء میں پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران کم از کم6 سینیٹری ورکرز کی موت ہو چکی ہے۔ رہنمائوں نے کام کی جگہ پر ہونے والے حادثات کی صورت میں معاوضے، سینیٹری ورکرز کی صحت اور سلامتی کے لیے اقدامات سمیت گٹروں کی صفائی جیسے خطرناک کام انجام دینے کے لیے مشینوں کے استعمال کا بھی مطالبہ کیا۔

وٹس ایپ کے ذریعے خبریں اپنے موبائل پر حاصل کرنے کے لیے کلک کریں

تمام خبریں اپنے ای میل میں حاصل کرنے کے لیے اپنا ای میل لکھیے

اپنا تبصرہ بھیجیں