لاہور:پنجاب حکومت نے صوبے کی تاریخ کا تاریخی ٹیکس فری بجٹ پیش کردیا، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے پنجاب کی تاریخ کا سب سے بڑا ٹیکس فری سرپلس بجٹ کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب اسمبلی میں پیش کیا۔ اس موقع پر بجٹ تقریر میں انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقی کا آغاز ہوگیا ہے، آج اس حکومت کا پہلا ٹیکس فری سرپلس بجٹ پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے مہنگائی کے مسئلے کو فوکس کرتے ہوئے اس پر خصوصی توجہ دی اور صوبے میں ملاوٹ، منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف تیز رفتار آپریشنز کروائے، جس سے مہنگائی کنٹرول کرنے میں مدد ملی۔
صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ پنجاب کے اس بجٹ کا کل حجم 5446 ارب روپے ہے، جس میں آمدن کا تخمینہ 4643 ارب 40 کروڑ روپے لگایا گیا ہے جب کہ 842 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ سالانہ ترقیاتی منصوبے میں 77 نئے میگا منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمٰن نے کہا کہ موجودہ ریونیو ہدف 960 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، جو صوبہ اپنے ذرائع سے اکٹھا کرے گا۔ بجٹ میں کم ازکم اجرت 32 ہزار سے بڑھا کر 37ہزار روپے کر نے کی تجویز ہے۔ حکومت 100 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا کسان دوست پیکیج صوبے میں متعارف کروا رہے ہیں۔ ایک ارب 25 کروڑ کی لاگت سے پنجاب بھر میں ماڈل ایگری کلچرل مالز کا قیام، 2ارب کی لاگت سے لائیو اسٹاک کارڈ کا اجرا کیا جا رہا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں کسانوں کو ڈیری فارمنگ کے لیے آسان اقساط پر قرضے دیے جا رہے ہیں۔
صوبائی بجٹ کے اہم نکات:
-
بجٹ کا حجم 5 ہزار446 ارب روپے۔
-
بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں،نہ ہی موجودہ ٹیکسز کی شرح میں اضافہ کیا گیا۔
-
ریونیو ہدف 960 ارب روپے مقرر۔
-
842ارب روپے ترقیاتی بجٹ کےلیے مختص۔
-
صوبائی ملازمین کی تنخواہوں میں 20 سے25 فیصد اضافہ۔
-
پنشن میں 15فیصد اضافےکی منظوری۔
-
صوبے میں کم ازکم اجرت کو 32 ہزار سے بڑھا کر37 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز۔
-
2ارب50کروڑکی لاگت سے انڈرگریجوایٹ اسکالر شپ پروگرام شروع۔
-
ٹیکسٹائل صنعت کے فروغ کے لیے3ارب کی لاگت سے گارمنٹ سٹی کا قیام۔
-
شعبہ صحت کےلیے 539 ارب 55 کروڑ روپے مختص۔
-
49 ارب کی لاگت سے پنجاب کے 5 بڑے شہروں میں ماحول دوست بس سروس کا آغاز۔
-
2ارب کی لاگت سے معذور لوگوں کے لیے چیف منسٹر ہمت کارڈ پروگرام کا اجرا۔
-
ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے1 ارب کی لاگت سےاسکل ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز۔
-
45 کروڑ روپے کی لاگت سے ائیر ایمبولینس سروس کا آغاز۔
-
سوشل پروٹیکشن کےلیے 130 ارب روپے مختص۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازکی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں کابینہ نے 5 ہزار 446 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے بجٹ دستاویز 25-2024 پر دستخط بھی کیے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا نہ ہی موجودہ ٹیکسزکی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے، ٹیکس بڑھائے بغیر مالیاتی ذرائع سے ریونیو میں 53 فیصد کا اضافہ کیا جائے گا۔
